خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 64
خطابات شوری جلد اوّل وقف کرے۔۶۴ مشاورت ۱۹۲۳ء (۲)۔تجویز یہ ہے کہ معذوروں سے روپیہ لیا جائے۔(۳)۔تین ماہ سے کم وقت نہ لیا جائے۔۔(۴)۔ایک مہینہ بھی وقت لیا جائے۔یہ لوگ کامل مبلغ نہ ہوں گے بلکہ ان کو ضروری مسائل سے واقفیت ہوگی اور وہ کام کر سکیں گے چونکہ لازمی وقف کرنے کا سوال مستر د ہو گیا ہے اس لئے ایک مہینہ مدت کا سوال بھی گر گیا کیونکہ یہ اس کے ساتھ وابستہ تھا۔“ اس کے بعد نمائندگان کی رائے لی۔۶۹ را ئیں اس تجویز کی تائید میں تھی کہ مدت تین مہینہ ہونی چاہئے اور ۴۲ اس امر کی تائید میں تھیں کہ عام اجازت ہو اور مدت ایک مہینہ ہو۔اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ:-۔آراء سے معلوم ہوتا ہے کہ کثرتِ رائے تین مہینہ کی تائید میں ہے۔میں بھی ان لوگوں کی تائید میں ہوں جو تین مہینہ کی تائید میں ہیں۔ابھی اس کو لوگوں کی مرضی پر چھوڑنا چاہئے کہ جس قدر اپنے آپ کو پیش کرنا چاہیں کریں۔یا د رکھو وہاں دلائل کا اتنا کام نہیں جس قدر اخلاق اور معاملات کا دخل ہے۔ایک مہینہ میں کسی شخص کے اخلاق سے اتنی واقفیت نہیں ہو سکتی جتنی کہ ضرورت ہے۔نمونہ اور اخلاق کا اثر بھی واقفیت کے بعد ہوتا ہے۔میرے نزدیک ہمارے آدمی زیادہ ہونے چاہئیں۔شدھی میں وہ لوگ بہت سے آدمیوں کو لے کر جاتے ہیں جن کے رعب کے نیچے آ کر وہ لوگ شدھ ہو جاتے ہیں۔اگر ایسے وقت میں ہمارے آدمی بھی کثرت سے پہنچ جائیں تو وہ لوگ اس سے رُک جائیں۔ہمیں اپنی جماعت کے اخلاق پر شک کرنے کی ضرورت نہیں۔ضرورت اور حالات پر موقوف ہے ہمیں جس قدر آدمیوں کی ضرورت ہے وہ ملیں گے۔ہاں ایک حصہ اور ہے کہ وہ مدرسین اور طلباء جو تین مہینہ کے لئے نہیں جا سکتے اُن سے دو ہی مہینہ لئے جائیں گے۔قادیان کے مدارس کے اساتذہ چونکہ سارا سال ہی خدمت دین پر لگے رہتے ہیں اور اگر ہم ان کو تین مہینہ کی رخصت دیں تو باقی کام بند ہو جائیں ان کا مرکز میں رہنا مفید ہے کیونکہ یہ دوسروں کو تیار کر سکتے ہیں۔اس لئے ہم ان کو بجائے تین ماہ کے دوماہ کی ہی اجازت دے دیں گے۔“