خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 63
خطابات شوریٰ جلد اوّل ۶۳ مشاورت ۱۹۲۳ء کام ہے اس میں تحقیقات کرنی ہوتی ہے۔اگر حافظ صاحب ایک دن میں تیار کر لاتے تو مجھے ان کے علم پر شک پڑ جاتا ایک اور بات قابل اصلاح ہے کہ بار بار رپورٹوں میں بھی اور سوال کرنے والوں کی زبان سے بھی لفظ نکلے ہیں۔وہ یہ ہیں کانفرنس۔حالانکہ یہ کا نفرنس نہیں بلکہ مجلس مشاورت ہے۔جماعت کے احباب اپنے امام کو اس بات کے متعلق مشورہ دیتے جس کے متعلق وہ مشورہ طلب کرتے ہیں آئندہ کا نفرنس کی بجائے مجلس مشاورت کا لفظ استعمال کرنا چاہئیے۔“ رپورٹ سب میٹی تالیف و اشاعت "سب کمیٹی کے سامنے دو تجویزیں تھیں :- سب کمیٹی تالیف و اشاعت کی رپورٹ پیش ہو رہی تھی کہ دوران رپورٹ حضور نے فرمایا:- اول فتنہ کے مقابلہ کے لئے مال مہیا کرنے کی کیا صورت اختیار کی جائے۔دوسرے یہ کہ ہندو قوموں میں کون سی ایسی قومیں ہیں جن کو جلدی ہم اسلام میں داخل کر سکتے ہیں۔یہ حصہ چونکہ اہم ہے اور اس وقت عام لوگ یہاں موجود ہیں اور ہر ایک آدمی محتاط نہیں ہوتا اس لئے اس حصہ کو فی الحال چھوڑا جاتا ہے اور اس پر علیحدہ گفتگو ہوگی۔اس کے پہلے حصہ پر گفتگو کی جاتی ہے۔اب چودھری صاحب ایک ایک تجویز پیش کریں گے اور ان پر گفتگو ہوگی۔پہلی تجویز یہ ہے کہ ۱۵ اور ۶۰ سال کے درمیان عمر کے لوگ لازمی طور پر اپنی زندگی وقف کریں۔“ اس کے متعلق بہت سے احباب نے اپنی آراء حضور کی خدمت میں پیش کیں جن کو سُننے کے بعد حضور نے فرمایا: - میں نے پہلے بھی دوستوں کو بتایا ہے اور اب بھی کہتا ہوں کہ محض تائید کے لئے کھڑے ہونا یا اسی بات کو دُہرانے کے لئے کھڑا ہونا درست نہیں۔اس سے محض وقت ضائع ہوتا ہے۔ہاں اگر آراء بغرض تائید و تردید پیش کی جائیں تو پھر تائید کے لئے کھڑے ہو کر بیان کر دینا چاہئے۔اب جو اس موضوع پر تجویزیں پیش ہوئی ہیں وہ یہ ہیں :- (۱)۔وقف لازمی ہو اور ہر ایک شخص جس کی عمر ۱۵ سال سے ۶۰ سال تک ہو، اپنے آپ کو