خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 62
خطابات شوریٰ جلد اوّل ۶۲ مشاورت ۱۹۲۳ء چندہ خاص کے متعلق جو اعتراض ہوا ہے میں کسی زمیندار سے اس کے متعلق پوچھنا چاہتا ہوں کہ کماد (ایکھ یا گنا ) کس فصل میں شمار ہوتا ہے۔ناظر بیت المال سے بھی غلطی ہوئی ہے لجنہ اماء اللہ کی حیثیت انجمن کی نہیں ہے بلکہ وہ بطور کلب ہے چندہ بدستور ہوں گے لجنہ کی غرض سوشل اصلاح ہوگی۔“ دوسرا دن چند نظارتوں کی رپورٹس پیش ہونے کے بعد جب اُن سے متعلق سوال وجواب ہو چکے تو حضور نے فرمایا : - " ناظر صاحبان کی رپورٹوں کے متعلق سوالات ہوئے ہیں جو رپورٹیں ہوئی ہیں وہ ابھی مکمل نہیں جیسی ہونی چاہئیں۔گو میں ان سے متفق نہیں جنہوں نے سوال کئے ہیں کیونکہ ان سوالات کے جوابات رپورٹوں میں موجود تھے۔بعض رپورٹیں اس رنگ میں پیش نہیں ہوسکیں جس رنگ میں پیش ہونی چاہئیں اور پھر یہاں چند منٹ میں اس وقت وہ تمام سال کی رپورٹ نہیں سنا سکتے ہاں یہ بتا سکتے ہیں کہ ان کے کام کے کیا کیا نتائج نکلے۔بعض سوالات ایسے ہیں کہ ان کا رپورٹ سے تعلق نہیں بلکہ وہ دفتر میں جا کر دریافت کرنے والی باتیں ہیں۔رپورٹوں میں اعداد سے کام لیا جائے۔چودھری فتح محمد صاحب ایک جہاد میں مصروف ہیں اس لئے یہ ٹھیک ہے کہ ان کے کام کے احترام کا تقاضا ہے کہ ان کے کام پر اس وقت بحث نہ کی جائے کیونکہ وہ جواب نہیں دے سکتے کہ ان کے کام کے متعلق کیا حقیقت ہے۔انسان روحانی امراض خود محسوس نہیں کر سکتا مگر تندرست سمجھتا ہے کہ بیمار میں یہ بیماری ہے۔رپورٹ کے متعلق مجھے یہ بھی کہنا ہے کہ خانصاحب نے اپنی رپورٹ میں فقہ کی کتاب جو حافظ روشن علی صاحب نے تالیف کی ہے اس کا ذکر ایسے پیرا یہ میں کیا ہے جس سے طنز ہوتی ہے مثلاً خانصاحب کا یہ کہنا کہ خدا کا شکر ہے نو مہینہ کے بعد چند روز ہوئے ہیں حافظ صاحب نے تیار کر کے دی ہے یہ ایک طنز کا پہلو ہے خواہ خانصاحب کا یہ منشاء نہ ہو۔اس میں کیا شک ہے کہ اگر حافظ صاحب نے نومہینہ میں بھی تیار کر دی تو بڑا کام کیا۔یہ ایک علمی