خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 60

خطابات شوری جلد اوّل مشاورت ۱۹۲۳ء روایتوں کو صحیح سمجھ کر اپنی کتابوں میں درج کر لیا۔پس ایسے لوگ ہماری جماعت میں بھی ہیں اور ان کے اخلاق جماعت پر داغ ہیں۔ضرورت ہے کہ ان کا علاج سوچا جائے ان کی وجہ سے جماعت کے نیک نام پر حرف آتا ہے۔اگر وہ ہمارے ساتھ رہیں گے تو ان کی وجہ سے سلسلہ بدنام ہو گا مگر جب ہم بھی ان سے نفرت کریں گے تو جماعت بدنام نہیں ہو سکتی پس جو لوگ ایسے ہیں کہ ان کی زندگی غیر اسلامی ہے اور وہ اصلاح بھی نہیں کرتے۔سوال یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے کیا سزا ہونی چاہئے۔یہ مراد نہیں کہ وہ سزائیں سیاسی ہی ہوں ہم ان کو اور سزائیں دے سکتے ہیں اگر ان کو سزا نہ دی جائے تو اس کا ہماری جماعت پر اثر پڑے گا۔ساتواں مشورہ طلب سوال یہ ہے کہ :-۔۔۔۔۔۔۔زکوۃ کا فریضہ جو ارکانِ اسلام میں سے ہے اس کی ادائیگی کے لئے کیا تدابیر اختیار کی جاویں اور اس کی طرف سے سستی کرنے والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جاوے۔“ اس میں شک نہیں کہ بعض لوگ ہماری جماعت میں فریضہ زکوۃ کے ادا کرنے سے غافل ہیں۔بہت ہیں جو زکوۃ دیتے ہیں مگر اپنے اپنے مقامات پر ہی صرف کر دیتے ہیں حالانکہ زکوۃ کے متعلق حکم ہے کہ مرکز میں آئے۔پس ہماری جماعت کی زکوۃ قادیان میں آنی چاہئے۔اس کی نگرانی کی ضرورت ہے۔زکوۃ کے مسائل سے عام واقفیت کی ضرورت ہے۔حضرت ابو بکر نے تو زکوۃ کے تارکوں کو کافر کہا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ ہمیں ان سے کیا سلوک کرنا چاہئیے ؟ آٹھواں امر مشورہ طلب یہ ہے کہ : - پچھلے سال کی کارروائی پر مرکزی دفاتر اور باہر کی انجمنوں نے کیا کام کیا ہے؟“ رپورٹیں سُنائی جائیں گی جس میں بتایا جائے گا کہ مرکزی دفاتر والوں نے کیا کارروائی کی ہے یا نہیں کی اور اسی کے ساتھ باہر کی جماعتوں نے کہاں تک کام میں مدد دی ہے یا نہیں دی؟ اگر نہیں دی تو کیوں نہیں ؟ اس کا وہ جواب دیں گی۔یہ وہ باتیں ہیں جن پر اس وقت غور کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور کرم سے ہمیں وہ راستہ دکھائے جو انعام کا راستہ ہو ہماری عقلوں میں روشنی دے اور غفلتوں کو دُور کرے