خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 56
خطابات شوری جلد اوّل مشاورت ۱۹۲۳ء آئندہ زندگی درست ہو جائے گی۔دل پر اثر ڈالنے والی اس قدر تقریر نہیں ہو سکتی جس قدر حُسنِ سلوک ہو سکتا ہے۔جب ان سے عمدہ اور نرمی کا سلوک ہوگا تو وہ جماعت کا معزز اور بہترین رکن بن جائیں گے۔غرباء سے میل ملاپ میں امراء بھی اپنی غرباء بہنوں کو عزت سے دیکھیں گی۔پس قادیان میں تو لیکچروں کا انتظام ہو گیا مگر باہر دیہات میں جو اس انجمن کے نمونے پر انجمنیں ہوں گی ان میں اس قسم کے لیکچروں کا کیا انتظام کیا جائے گا۔اس کے لئے بھی ایک سکیم ہونی چاہئے۔دوسرا سوال جو مشورہ طلب ہے یہ ہے کہ ادنی اقوام اور ہندو قوموں میں تبلیغ کا کیا انتظام کیا جاوے۔نمائندگان جماعت اپنے علاقہ کے حالات پر غور کر کے آئیں کہ ان کے نزدیک کس علاقہ کے ہندوؤں میں پہلے تبلیغ کا کام شروع کیا جائے۔خصوصاً اس کے متعلق کہ ایسی کون سی قومیں جو ہندو کہلاتی ہیں لیکن بوجہ ادنیٰ حالت کے ہندو مذہب بیزار ہیں۔اس سوال کا تعلق چوتھے سوال سے ہے جو یہ ہے کہ :- (۴) ارتداد کا سلسلہ جو راجپوتانہ میں جاری ہے اس کے دور کرنے کے لئے روپیہ بہم پہنچانے اور آدمی بہم پہنچانے پر غور کیا جائے گا۔“ ہمیں اللہ تعالیٰ نے اس وقت دین کا داروغہ مقرر فرمایا ہے۔اس ارتداد کے سلسلہ کو روکنے کے لئے ہم نے کام شروع کر دیا ہے میں نے اپنی جماعت کی طرف سے پچاس ہزار روپیہ کا اعلان کر دیا ہے۔یہ دو اہم سوال تھے۔روپیہ کے متعلق ایک تجویز یہ تھی کہ یہ تمام رقم جو پچاس ہزار کی ہے صرف چند با اثر اور صاحب ثروت احباب سے لی جائے۔اور ایک یہ کہ چندہ عام کر دیا جائے۔مگر اس خیال سے کہ مجلس مشاورت قریب تھی ابتدائی کام کے لئے روپیہ کی ضرورت تھی اس لئے میں نے یہ تجویز کی کہ کم از کم سو روپیہ رقم مقرر کی جاوے۔زیادہ جو دینا چاہے دے۔پہلے قادیان والوں کو مخاطب کیا۔خیال یہ تھا کہ اگر مجلس مشاورت میں یہ فیصلہ ہو جائے کہ چندہ عام ہو تو پھر یہاں کے غریب بھائی شامل ہو جائیں گے اور اگر تحریک خاص رہی تو وہ لوگ تو داخل ہو ہی چکے ہیں۔اس کے مطابق ایسے لوگوں نے اس