خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 52
خطابات شوری جلد اوّل ۵۲ مشاورت ۱۹۲۳ء خدمت کا جوش پیدا کرنے کے لئے میں نے تحریک کی تھی کہ برلن میں مسجد بنائی جائے اور اس کی تعمیر سلسلہ کی عورتوں کے چندہ سے ہو۔موجودہ حالت میں اس مسجد کی تیاری کے لئے پچاس ہزار کا اندازہ کیا گیا ہے اور اگر جرمن کی موجودہ حالت نہ رہی تو اس مسجد کے لئے جتنی زمین خریدی گئی ہے وہ ہی پانچ لاکھ روپیہ کی ہو گی۔مگر آج پانچ ہزار میں زمین خریدی گئی ہے اور اندازہ ہے کہ ۳۷ ہزار میں مسجد تعمیر ہو جائے گی۔یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ ابھی چندہ کا ایک مہینہ باقی ہے ۴۵ ہزار کے وعدے ہو چکے ہیں جن میں سے ہیں ہزار سے زیادہ نقد جمع ہو چکا ہے۔ابھی بعض جماعتیں باقی ہیں جن کی مستورات نے ابھی چندہ نہیں دیا۔ان میں سے بعض ایسی مستورات ہیں جو پڑھی لکھی نہیں اس لئے ان کے مرد جو پڑھے ہیں یا مستورات جو خواندہ ہیں اُن میں تحریک کریں۔اس تحریک سے ہماری مستورات کا مطمح نظر ہی بدل گیا ہے ان میں جوش پیدا ہو گیا ہے اور وہ ارادہ رکھتی ہیں کہ خدمت دین میں آگے بڑھیں۔مردوں کا فرض ہے کہ عورتوں کو دین کی ضروریات سے آگاہ کریں وہ دین کی خدمت میں پیچھے رہنے والی نہیں ہیں۔مردوں کا فرض ہے کہ ان میں لجنہ اماء اللہ کے طریق پر مستورات کی انجمنیں بنائیں۔ان کی غرض محض چندہ لینا نہ ہو بلکہ یہ غرض ہو کہ ان میں دین کی خدمت کا جوش، ضروریات مذہب سے آگاہی اور مسائل سے واقفیت اور ایک دوسرے سے ہمدردی اور حسن سلوک کیا جائے۔اس تحریک نے عورتوں میں دین کا جوش اُبھار دیا ہے۔عورت کے لئے زیور علیحدہ کرنا خود کشی کے برابر ہوتا ہے مگر ایک جگہ پر ایک عورت ایک اوباش غیر احمدی سے بیاہی ہوئی تھی وہ ایک لمبے عرصہ تک معلقہ رہی آخر اُس کو طلاق ملی اس نے دوسری جگہ شادی کی جب مسجد برلن کی تحریک ہوئی تو اس نے اپنا تمام زیور اور تمام ریشمی کپڑے مسجد کے چندہ میں دے دیئے۔جہاں اس قسم کی نظیریں ہیں، عورتوں نے بڑی سے بڑی قربانیاں کی ہیں وہاں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بعض جگہوں کے مرد مخلص ہیں مگر ان کا اخلاص ان کی ذات تک محدود ہے انہوں نے یہ روح اپنی مستورات میں نہیں پیدا کی۔اس کی نظیر لاہور کی مستورات ہیں مردوں میں اخلاص ہے مگر عورتوں میں یہ روح نہیں ہے اس لئے ضرورت ہے کہ عورتوں میں بھی یہ روح پیدا کی جائے۔وہاں سے جتنا چندہ آیا ہے وہ ان مقامات سے