خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 47

خطابات شوری جلد اوّل है ۴۷ مشاورت ۱۹۲۳ء وقت تک تمام متفرق جماعتوں کی طاقتیں صحیح مصرف پر صرف نہیں ہوسکتیں اس لئے ضرورت ہے کہ تمام متفرق جماعت کی طاقتوں کو جمع کرنے کے لئے ایک مرکزی طاقت ہو جو سب کے کاموں کی نگران ہو اور اس سے تمام جماعتوں کا تعلق ہو۔اس لئے ضروری ہے کہ کوئی جماعت اپنا مرکز قائم کرے اور اس کی بہترین صورت یہ ہے کہ خلیفہ ہو جو اپنی رائے میں آزاد ہولیکن وہ سب سے مشورہ طلب کرے۔جو رائے اُس کو پسند آئے وہ اُس کو قبول کرے اور جو رائے اس کو دین کے لئے اچھی نہ معلوم ہو خواہ وہ ساری جماعت کی ہو اُس کو رڈ کر دے اور اس کے مقابلہ میں جو بات اللہ تعالیٰ اس کے دل میں ڈالے اور جس پر اس کو قائم کرے وہ اس کو پیش کرے اور لوگ اُس کو قبول کر کے اس پر عمل کریں۔جن لوگوں سے خلیفه مشورہ طلب کرے ان کا فرض ہے کہ دیانت سے صحیح مشورہ دیں۔اور جب مشوار طلب کیا جائے تو خواہ کسی کے بھی خلاف انکی رائے ہو بیان کر دیں لیکن یہ دل میں خیال نہ کریں کہ اگر ہماری بات نہ مانی گئی تو یہ غلطی ہوگی۔پس خلیفہ کے یہ معنے نہیں کہ وہی اسلام کا بوجھ اُٹھانے والا ہے بلکہ اس کے معنے ہیں کہ وہ تمام جماعت کو انتظام کے ماتحت رکھنے والا ہے۔اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ کوئی انسان بھی مشورہ سے آزاد نہیں۔یہ خیال باطل ہے کہ مشورہ کی ضرورت نہیں یا یہ کہ مشورہ یونہی ہے اس کا فائدہ نہیں۔یہ بھی غلط ہے کہ مجلس مشاورت خلافت کے خلاف بغاوت ہے بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ کوئی خلافت مستحکم نہیں ہو سکتی جب تک اُس کے ساتھ مشورہ نہ ہو۔کئی دفعہ بعض باتیں مشورہ سے ایسی معلوم ہو جاتی ہیں جو انسان کے ذہن میں نہیں ہوتیں۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم بھی مشورہ کیا کرتے تھے۔چنانچہ جنگِ احزاب کے موقع پر جب تمام کفار مل کر مدینہ پر چڑھ آئے اور یہود بھی کفار کے ساتھ مل گئے تو حضور نے اپنے اصحاب سے مشورہ طلب کیا۔حضرت سلمان نے ایک مشورہ دیا کہ مدینہ کے ارد گر د خندق کھودی جائے کیونکہ ایران میں یہی طریق رائج ہے۔اس سے ایک وقت تک دشمن اپنے حملے میں ناکام رہتا ہے۔یہ رائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند آئی اِس کے مطابق عمل کیا گیا اور اس سے مسلمانوں کو بہت فائدہ پہنچا۔اس مجلس میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ بھی موجود تھے۔حضرت سلمان کا -