خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 45

خطابات شوری جلد اوّل ۴۵ مشاورت ۱۹۲۳ء بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مجلس مشاورت ۱۹۲۳ء (۳۱ / مارچ و یکم اپریل ۱۹۲۳ء) پہلا دن افتتاحی تقریر مجلس مشاورت منعقده ۳۱ مارچ و یکم اپریل ۱۹۲۳ء کا افتتاح کرتے ہوئے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا : - جیسا کہ احباب کو معلوم ہے کہ میں نے پچھلے سال اس مجلس کے انعقاد کی بنیاد ڈالی تھی۔اس کی غرض اُس سنت کا احیاء ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسلمانوں کی بہتری کے لئے قائم کی گئی تھی۔آپ کا طریق تھا کہ اہم امور کے متعلق اُمرائے قوم سے مشورہ فرمایا کرتے تھے۔مشورہ کے بعد اللہ تعالیٰ جس بات پر آپ کو قائم کرتا مسلمانوں کے لئے اُس کے متعلق احکام جاری کرتے تھے۔اُس زمانہ میں سفر کی آسانی نہ تھی اس لئے آپ کی مجلس میں مدینہ والے ہی اہم امور کے مشورہ میں شامل ہو سکتے تھے۔اب سفر کی سہولت ہے بیرونی جماعتوں کے لوگ بھی سال میں ایک دفعہ شامل مجلس مشورہ ہو سکتے ہیں۔چونکہ ابتداء میں نئی بات پر عمل کرنا بوجھ ہوتا ہے اسلئے فی الحال یہی مناسب سمجھا گیا ہے کہ سال میں ایک دفعہ تمام جماعتوں کے نمائندوں کو جمع کیا جائے اور ایسے کام جن کا اثر سب پر ہوتا ہو ان کے متعلق تجاویز پر غور کیا جائے اور جو بات مفید اور بہتر معلوم ہو اُس پر عمل کیا جائے۔اس سے مل کر کام کرنے کی روح پیدا ہوتی ہے اور بہتر تجاویز سامنے آتی ہیں اور بہتر اختیار کر لی جاتی ہیں۔ابھی تک میں سمجھتا ہوں جماعت میں اس کے متعلق احساس پیدا نہیں ہوا کہ خلافت کی موجودگی میں مشورہ کی کیا ضرورت ہے۔مگر پھر بھی پچھلے سال کی نسبت اب کی دفعہ زیادہ