خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 43

خطابات شوری جلد اوّل " ۴۳ مجلس مشاو مشاورت ۱۹۲۲ء چونکہ وقت بہت ہو گیا ہے اس لئے اور تجاویز پیش نہیں ہو سکتیں۔مدرسہ احمدیہ کے لئے تحریک کرتا ہوں کہ بچوں کو داخل کرائیں تمام لوگوں کو توجہ نہیں بالعموم وظیفہ پر پڑھتے ہیں لوگوں کو پہلے شکایت تھی کہ کارکن خود کیوں نہیں لڑکوں کو داخل کراتے اب یہ نہیں ہونا چاہئیے۔میں نے بڑے بچے کو مدرسہ میں داخل کرایا ہے کہ قرآن حفظ کرے دوسرے کو بھی چوتھی جماعت پاس کر لے تو داخل کرا دوں گا۔اور میں ان کو ہی نہیں جتنے بچے ہیں سب کو پیش کروں گا۔اس کے بعد جماعت سے یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ اگر سارے نہیں تو ایک ایک تو استطاعت والے پیش کریں۔اس طرح ایک تو خرچ کم ہو جائے گا دوسرے جو اپنے طور پر پڑھے اُس کی طبیعت میں ایک آزادی اور جرات ہوتی ہے اور ترقی کرنے کا خاص موقع ملتا ہے اُن پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا کہ تم مجبور ہو کر پڑھتے ہو۔پھر ایسے پڑھنے والوں سے مدرسہ کا وقار بڑھ جاتا ہے کیونکہ اعلیٰ طور پر پڑھتے ہیں۔اس لئے چاہیے کہ آسودہ لوگ اپنے بچے دیں مگر وہ نہیں جو ادھر کچھ نہ پڑھتے ہو بلکہ ہوشیار ہونہار کو داخل کرائیں۔پڑھا ئیں اور دین کے راستہ میں قربان کریں۔مال کا قربان کرنا ہی قربانی نہیں ہوتی یہ بھی قربانی ہے جو اولاد کی قربانی ہے۔جو نمائندے آئے ہیں ان کو بھی تاکید کرتا ہوں کہ وہ بھی اپنے بچے داخل کریں اور دوسروں کو بھی جا کر کہیں کہ وہ زیادہ تعداد میں اپنے خرچ پر پڑھنے والوں کو داخل کرائیں۔اس وقت چونکہ قلیل تعداد اپنے خرچ پر پڑھنے والوں کی ہے جس کے یہی معنی ہیں کہ جو اپنے خرچ پر پڑھ سکتا ہے وہ ادھر آنا نہیں چاہتا ورنہ کیا وجہ ہے کہ دوسرے مدرسہ میں زیادہ اپنے خرچ پر پڑھنے والے ہیں یہی کہ جب تک ان کا بس چلتا ہے ادھر نہیں آتے۔یہ بڑی گندی روح ہے اسے دور کرنا چاہیے۔میں یہ بھی کہوں گا کہ مدرسہ انگریزی میں جولڑ کے بھیجتے ہیں اس میں داخل کرنے سے بھی کچھ نہ کچھ دینی کاموں میں مددملتی ہے اگر چہ کہوں گا کہ وہاں ایسی تربیت نہیں کی جاتی جیسی کہ چاہئیے۔اب یا تو آتے ہی متنبہ کر دیا جائے کہ یہ نقص ہے۔یونہی نہ ہو واقعی بات بتائیں باوجود اس کے مہتموں کا فرض ہے کہ ہر ایک نقص کو دور کریں۔لوگوں کو شکایت ہے کہ باہر کے سکولوں سے کوئی زائد بات نہیں ہوتی اور میں کہتا ہوں کہ بہت دفعہ ان کی شکایت درست ہوتی ہے۔ان کی ذمہ واری ہے کہ جو نقص ہوں