خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 641 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 641

خطابات شوری جلد اوّل ۶۴۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء کو دے دوں، میں اس برکت کو نہیں چھوڑ سکتا ہے پس ہم صحابہ کرام کو ادب اور احترام کا مقام دے سکتے ہیں۔اور ان کے لئے جان بھی دے سکتے ہیں مگر جب قربانی کا موقع آئے تو ہم کہیں گے کہ ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔جب تک ہم میں سے ہر ایک کے دل میں یہ جذ بہ نہ پیدا ہو ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے اپنی ذمہ واری کو پوری طرح محسوس کر لیا۔اب غور کرو، ہم پر ایک طرف تو کام کا اتنا بوجھ اور دوسری طرف سستی کا یہ عالم کہ اس مارچ تک جماعتوں کے ذمہ ۸۰ ہزار کا بقایا اور موصیوں کے ذمہ ۵۸ ہزار کا بقایا ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ ایک لاکھ اڑتیس ہزار بقایا ہے۔اور ایک لاکھ تین ہزار کا قرضہ ہے۔اگر سُستی نہ ہوتی اور پوری رقوم ادا کی جاتیں تو قرضہ ادا کرنے کے بعد ۳۵ ہزار روپیہ جمع ہوتا۔میں نے جو تحریکیں کی ہیں ان کے الفاظ نہیں بلکہ ان کی روح کو سمجھ لیں تو پھر بقایا نہیں رہ سکتا۔بہر حال یہ ضروری ہے کہ چندہ کا بقایا نہ ہو بلکہ کچھ رقم اپنے لئے پس انداز بھی ہو اور یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے اخراجات کو کم کر دیں اور کفایت شعاری سے کام لیں اس طرح کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔میں کیوں آپ لوگوں کو پس انداز کرنے کے لئے کہتا ہوں اس لئے کہ آئندہ ہمیں اور زیادہ قربانی کی ضرورت پیش آنے والی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اُس دن ہماری جماعت کے ہر فرد کی جائداد اور آمد آج سے زیادہ ہو۔جب چندے بڑھا دیئے گئے ہیں اور ادھر پس انداز کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے تو آج سے چند سال بعد آج سے زیادہ جائداد ہر احمدی کے پاس ہو گی۔اگر ہماری جماعت کے ۸۰ فیصدی لوگ بھی اس پر عمل کریں کیونکہ بعض کے لئے اس پر عمل کرنا ناممکن ہے تو کچھ عرصہ کے بعد ہم زیادہ آسانی کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کر سکیں گے۔یہ تحریک اقتصادی تجاویز کا مغز ہے۔اسے اگر دوست سمجھ لیں اور اس کی تعلیم ا اپنی جماعت کے ہر ایک فرد کو دیں تو بہت شاندار نتائج نکل سکتے ہیں اس کے لئے میں نے ایک تجویز بھی بتائی تھی کہ مہینہ میں ایک دن ایسا رکھو جب کہ تحریک جدید کے مطالبات بیان کئے جائیں۔ہر مہینے ایک جلسہ ہو جس میں سارے مطالبات ذہن نشین کئے جائیں۔ہماری جماعت جس قدر قربانی کرتی ہے اس کی مثال سکھوں میں نہیں مل سکتی باوجود یکہ وہ قربانی