خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 640
خطابات شوری جلد اوّل ۶۴۰ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء چنانچہ دوسرا صحابی آ گیا اور اس نے جھنڈا پکڑ لیا ہے آج ہمارے جھنڈے کو گرانے کی بھی دشمن پوری کوشش کر رہا ہے اور سارا زور لگا رہا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیں جو جھنڈا دے گئے ہیں اُسے گرا دے۔اب ہمارا فرض ہے کہ اسے اپنے ہاتھوں میں پکڑے رہیں اور اگر ہاتھ کٹ جائیں تو پاؤں میں پکڑ لیں اور اگر اس فرض کی ادائیگی میں ایک کی جان چلی جائے تو دوسرا کھڑا ہو جائے اور اس جھنڈے کو پکڑ لے۔میں ان نمائندوں کو چھوڑ کر اُن بچوں اور نو جوانوں سے جو او پر بیٹھے سُن رہے ہیں کہتا ہوں ممکن ہے یہ جنگ ہماری زندگی میں ختم نہ ہو۔گو اس وقت لوہے کی تلوار نہیں چل رہی لیکن واقعات کی ، زمانہ کی اور موت کی تلوار تو کھڑی ہے ممکن ہے یہ چل جائے۔تو کیا تم اس بات کے لئے تیار ہو کہ اس جھنڈے کو گرنے نہ دو گے؟ ,, اس پر سب نے بیک آواز لبیک کہا۔فرمایا : - ہمارے زمانہ کو خدا اور اس کے رسولوں نے آخری زمانہ قرار دیا ہے۔اس لئے ہماری قربانیاں بھی آخری ہونی چاہئیں۔ہمیں خدا تعالیٰ نے دُنیا کی اصلاح کے لئے چنا ہے اور ہم خدا تعالیٰ کی چنندہ جماعت ہیں۔ہمیں دُنیا سے ممتاز اور علیحدہ رنگ میں رنگین ہونا چاہئے۔صحابہ ہمارے لئے ادب کی جگہ ہیں مگر عشق میں رشک پیاروں سے بھی ہوتا ہے۔پس ہمارا مقابلہ اُن سے ہے جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوش بدوش جنگیں کیں اور اپنی جانیں قربان کیں۔ہم ان کی بے حد عزت اور تو قیر کرتے ہیں لیکن کوئی وجہ نہیں کہ ان کی قربانیوں پر رشک نہ کریں اور ان سے بڑھنے کی کوشش نہ کریں۔میں ایک مثال بیان کرتا ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دفعہ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔آپ کا طریق یہ تھا کہ اگر کوئی چیز اہلِ مجلس کو دیتے تو دائیں طرف والے کو دیتے۔اُس وقت آپ کے لئے دودھ لایا گیا۔آپ نے اس وقت حضرت ابوبکر کی طرف دیکھا جو بائیں طرف بیٹھے تھے اور دائیں طرف ایک بچہ بیٹھا تھا آپ نے شاید اس خیال سے کہ حضرت ابو بکر بوڑھے ہیں اور دیر سے بیٹھے ہیں ، انہیں بھوک لگی ہوگی بچے سے کہا اگر اجازت دو تو میں یہ دودھ ابو بکرڑ کو دے دوں بچہ نے کہا کیا یہ دودھ لینے کا میرا حق ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں۔اس نے کہا پھر میں یہ نہیں کر سکتا کہ یہ حضرت کا تبرک ابوبکر