خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 639 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 639

خطابات شوری جلد اوّل ۶۳۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء کل رات کو جب میں یہاں سے گیا تو جسم مضمحل تھا اور صبح کو بخار بھی تھا۔معلوم نہیں اب ہے یا نہیں۔گو جسم کوفت محسوس کرتا ہے مگر وقت نہیں کہ اس کا خیال رکھیں۔شریعت کہتی ہے کہ اپنے جسم کا بھی خیال رکھو مگر پھر بھی مصروفیت ایسی ہے کہ جسمانی تکلیف کی کوئی پرواہ نہیں کی جاسکتی اور میرے ساتھ کام کرنے والوں کی بھی یہی حالت ہوتی ہے۔چوہدری برکت علی صاحب کو مہینوں رات کے ۱۲ بجے تک تحریک جدید کا کام کرنا پڑا۔اسی طرح تحریک جدید کے دفتر کے کام کرنے کا وقت ۱۲ گھنٹے مقرر ہے۔اس سے زیادہ ہو جائے تو ہو جائے کم نہیں کیونکہ یہ اقل مقدار ہے۔تو میں سمجھتا ہوں کہ وقت ایسا ہے کہ ہمیں اہم قربانی کی ضرورت ہے اس کے لئے سب سے پہلے ناظر اور دوسرے کا رکن مد نظر ہیں۔میں نے جن کارکنوں سے کام لیا وہ دفتر ڈاک اور تحریک جدید میں کام کرنے والے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ صدر انجمن کے دفاتر کے کارکنوں نے اتنا تعاون نہیں کیا جتنا اُنہیں کرنا چاہئے تھا۔اگر ناظر بھی اسی طرح کام لیتے تو کام بہت زیادہ ہوتا۔ہاں ایک ناظر کو اس حد تک کام کرنا پڑا ہے یا اس کے قریب قریب، اور وہ خان صاحب فرزند علی صاحب ہیں۔انہیں راتوں کو جاگنا پڑا اور ایک دفعہ تو ساری رات ہی جاگتے رہے مگر عام طور پر نظارتوں نے اس طرح تعاون نہیں کیا۔اس لئے پہلے میں ان کو نصیحت کرتا ہوں اور پھر جماعت کو کہ ایک احمدی دین کی خدمت میں پہلے سے زیادہ وقت لگائے۔اس وقت ہم جنگ کے میدان میں کھڑے ہیں اور جنگ کے میدان میں اگر سپاہی لڑتے لڑتے سو جائے تو مر جاتا ہے۔ہمارے سامنے نہایت شاندار مثال اُن صحابہ کی ہے جن کے مثیل ہونے کے ہم مدعی ہیں۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ جھنڈا وہ لے جو اس کا حق ادا کرے۔ایک صحابی نے کہا یا رَسُول اللہ ! مجھے دیں۔آپ نے اُس کو دے دیا۔جنگ میں جب اُس کا وہ ہاتھ کاٹا گیا جس سے اُس نے جھنڈا تھاما ہوا تھا تو اس نے دوسرے ہاتھ میں تھام لیا اور جب دوسرا ہاتھ بھی کٹ گیا تو لاتوں میں لے لیا۔اور جب ٹانگیں کاٹی گئیں تو منہ میں پکڑ لیا۔آخر جب اُس کی گردن دشمن اُڑانے لگا تو اُس نے آواز دی! دیکھو! مسلمانو اسلامی جھنڈے کی لاج رکھنا اور اسے گرنے نہ دینا۔