خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 638
خطابات شوری جلد اوّل ۶۳۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء بعض کوشش کرتے رہے کہ کم از کم تین اشخاص کو احمدی بنائیں۔وہ بھی خدا تعالیٰ کے نزدیک ثواب کے مستحق ہیں۔۔۴۶۳ نمائندوں میں سے ۸۰ نئے نمائندے ہیں۔باقی ۳۸۳ نمائندے ہوتے ہیں جن میں سے ۸۸ نے اپنے وعدہ کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے یعنی ۲۵ فیصدی سے بھی کم نے۔یہ نتیجہ در حقیقت خوش کن نہیں ہے۔ہمارے سامنے جو حالات ہیں اُن کے رو سے ضروری ہے کہ ہم سب حقیقی طور پر کوشش کریں۔مجھے باہر جا کر تبلیغ کرنے کا موقع نہیں ملتا اور جن دوستوں نے کام کیا ہے ان کے کام میں میرا بھی تھوڑا بہت حصہ ہے مگر پھر بھی مجھے وعدہ یا د رہا۔پچھلے دنوں میں نے لاہور میں لیکچر دیا تو ایک شخص نے مجھے خط لکھا کہ میں لیکچر سن کر احمدی ہوا ہوں میں نے اُسے لکھا کہ مجھے یہ سُن کر بڑی خوشی ہوئی کہ میرے ذریعہ ایک احمدی ہوا۔اور خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ اُس نے مجھے اس طرح بھی موقع دے دیا۔دو اور نو جوانوں نے اس طرح بیعت کی اور میرا وعدہ بھی پورا ہو گیا۔پس میں پھر مجلس مشاورت کے نمائندوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہاں جو باتیں ہوتی ہیں اُن کو یاد رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔یہ زمانہ ہمارے لئے نہایت نازک ہے۔مجھ پر بیسیوں راتیں ایسی آتی ہیں کہ لیٹے لیٹے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جنون ہونے لگا ہے اور میں اُٹھ کر ٹہلنے لگ جاتا ہوں۔غرض یہی نہیں کہ واقعات نہایت خطرناک پیش آ رہے ہیں بلکہ بعض باتیں ایسی ہیں جو ہم بیان نہیں کر سکتے۔مجھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول یاد آتا ہے۔کسی نے اُن سے کہا خالد کو آپ نے کیوں معزول کر دیا ؟ آپ نے فرمایا تم اس کی وجہ پوچھتے ہو۔اگر میرے دامن کو بھی پتہ لگ جائے کہ میں نے اُسے کیوں ہٹایا تو میں دامن کو پھاڑ دوں۔تو سلسلہ کے خلاف ایسے سامان پیدا ہو رہے ہیں کہ جو میری ذات کے سوا کسی کو معلوم نہیں اور جو کچھ میں بتاتا ہوں وہ بھی بہت بڑا ہے اور اس سے بھی نیند حرام ہو جاتی ہے اور میں اپنے ساتھ کام کرنے والوں کی نیند حرام کر دیا کرتا ہوں۔تحریک جدید والے کئی دن سے لکھ رہے ہیں کہ اب گرمیاں آگئی ہیں ، رات کو کام کرنا مشکل ہے لیکن پرسوں میں یہاں سے کام کر کے گیا تو رات کے ساڑھے بارہ ایک بجے تک ڈاک پڑھی اور پھر صبح سویرے سے کام شروع کر دیا۔تو ہمارے ذمہ اِتنے کام ہیں کہ انہیں چھوڑ ہی نہیں سکتے۔