خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 634 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 634

خطابات شوری جلد اوّل ۶۳۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء چوہدری اعظم علی صاحب کی تقریر میں ایک بات تھی اگر چہ اُنہوں نے معذرت کر لی ہے مگر میں اسے کافی نہیں سمجھتا کیونکہ اُنہوں نے کہا ہے کہ میں نے یہ بات نہیں کہی تھی۔میں انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ایک مامور کے متعلق کلام کرتے وقت اُس کے درجہ کو آنکھوں کے سامنے رکھنا چاہئے۔ہمارے ایک اور دوست سے بھی کل غلطی ہوئی تھی مگر وہ ہمارے ہاں تو وارد ہیں اور وہاں سے آئے ہیں جہاں اس قسم کی باتیں ہوتی رہتی ہیں کہ ظل کی کچھ حقیقت نہیں ہوتی مگر چوہدری اعظم علی صاحب اس دروازہ پر گئے ہی نہیں وہ یہاں ہی رہے ہیں اس لئے اُن کی غلطی افسوس کے قابل ہے اور زیادہ افسوس اس وجہ سے ہے کہ وہ اُن چند لوگوں میں سے ہیں جن کو روکنا پڑتا ہے کہ اس سے زیادہ قربانی نہ کرو اور اجازت کے بغیر اس حد سے زیادہ قربانی نہ کرو۔پس وہ مخلص ترین انسان ہیں۔جب میں حج سے آیا تو جہاز کے کپتان کو عربی سیکھنے کا شوق تھا۔وہ مجھ سے عربی میں باتیں کیا کرتا۔ایک دن کہنے لگا اب خوب مزا ہو گیا جو چاہو کرتے رہو کیونکہ حج کر لیا ہے اور اس طرح گناہ معاف ہو گئے ہیں۔میں نے کہا صاف ستھرے کپڑے کے متعلق زیادہ احتیاط کی جاتی ہے یا گندے کپڑے کی؟ کہنے لگا صاف کی۔میں نے کہا پھر جب گناہ معاف ہو گئے ہیں تو اب زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔چونکہ چوہدری اعظم علی صاحب کا جامہ صاف تھا اس لئے اُن کو زیادہ احتیاط کرنی چاہئے تھی۔اُن کا کہنا اسی طرح کا تھا جس طرح کوئی کہے قرآن شریف کے خلاف اگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی کہیں تو نہ مانیں گے مگر ہم یہ کہہ نہیں سکتے۔محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن کریم کے خلاف کہتے ہی کیوں۔اور پھر اگر مگر کا کیا سوال۔مَا يَنْطِقُ عَنِ الهَوى نا اسی لئے آپ کے متعلق کہا گیا کہ اگر مگر آپ کے متعلق ہو ہی نہیں سکتا اور یہ بحث ہی غلط ہے۔امید ہے آئندہ دوست اِن امور میں احتیاط کریں گے کیونکہ بزرگوں کے متعلق کلام کرتے وقت بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ہمارے ایک دوست نے بیان کیا ہے کہ لفظوں پر زور نہیں دینا چاہئے ، سپرٹ کو دیکھنا چاہئے۔مگر یاد رکھنا چاہئے لفظوں کو نظر انداز کرنے سے کوئی ٹھکانا نہیں رہتا کیونکہ لفظوں میں بہت کچھ ہوتا ہے۔سپرٹ کے خلاف جہاں الفاظ آجا ئیں وہاں سپرٹ کو مقدم کرنا پڑے گا ورنہ الفاظ کو اتنی قدر دینی چاہئے کہ کوئی شوشہ ان کا نظر انداز نہ ہو اور ایک ہی وقت