خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 630
خطابات شوری جلد اوّل ۶۳۰ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء اس کے متعلق شیخ عبدالرزاق صاحب بیرسٹر نے ایک اعتراض اٹھایا ہے اور وہ یہ کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم یہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے احکام کی پیروی کے لئے جمع ہوئے ہیں اگر کسی مسئلہ کے متعلق آپ کی نص معلوم ہو جائے تو کیا اس کے خلاف گفتگو کر سکتے ہیں مگر اس کا جواب صاف ہے کہ ایسا نہیں کر سکتے لیکن جہاں قانون پر بحث ہو وہاں نص کا فیصلہ بھی گفتگو کے بعد ہی ہوا کرتا ہے۔پس دوران گفتگو میں جو دوست اسے نص کے خلاف سمجھتے ہوں وہ اس بات کو پیش کریں اور دلائل دیں۔ایک دوست نے کل بھی مجھے لکھ کر دیا تھا اور آج بھی یاد ہے کہ جو اصحاب موصی نہیں ان کے سامنے وصیت کا معاملہ پیش نہ ہو اور انہیں اس کے متعلق گفتگو کرنے کی اجازت نہ ہو مگر یاد رکھنا چاہئے ہماری جماعت مذہبی جماعت ہے۔اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہر شخص جو رائے دے گا دیانت سے دے گا۔اس لئے ہم کوئی اس قسم کا امتیاز نہیں کر سکتے۔اگر زمینداروں کے متعلق کوئی معاملہ پیش ہو گا تو غیر زمیندار دیانتداری سے رائے دیں گے۔اور اگر تاجروں اور ملازموں کے متعلق پیش ہوگا تو زمیندار دیانت سے رائے دیں گے۔اس وقت جو تجویز پیش کی گئی ہے چونکہ سب کمیٹی نے محسوس کیا ہے کہ اس کے الفاظ موزوں نہیں ہیں اور ان میں نقص رہ گیا ہے۔اس لئے اب دوسرے الفاظ میں پیش کرتی ہے۔چند ممبران کی آراء کے بعد حضور نے فرمایا: - مختلف اصحاب کی طرف سے سوالات آ رہے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اس گفتگو میں ایک چیز واضح نہیں۔دوسروں پر بھی اور خود مجھ پر بھی۔اس وقت سوال یہ ہے کہ جو شخص وصیت کرے وہ علاوہ جائیداد کی وصیت کے آمد کی بھی وصیت کرے۔جائیداد کی وصیت سے جو مفہوم لیا جا رہا ہے وہ بعض کے نزدیک یہ ہے کہ اس سے ایسی جائیداد مراد ہے جس سے گزارہ ہو رہا ہو اور اس کے علاوہ تھوڑی بہت آمد بھی ہو۔اس کے متعلق گفتگو ہو رہی ہے اور بعض یہ سمجھتے ہیں کہ ایک شخص کے پاس صرف دو چار سو کا مکان ہے مگر اس کی تنخواہ ہزار بارہ سو روپیہ ماہوار ہے وہ اگر جائیداد سے وصیت کر دے۔تنخواہ سے نہ کرے تو کیا اس کے لئے کافی ہے۔پیش شدہ تجویز کی مخالفت کرنے والوں کے مدنظر کونسی صورت