خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 620 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 620

خطابات شوری جلد اوّل ۶۲۰ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء جہاں قربانی کا سوال ہو وہاں عقل بھی کمزور ہو جاتی ہے اُس وقت یہی خیال ہونا چاہئے کہ اور بھی قربانی کریں گے۔مگر وہ دنیا داروں والی قربانی نہ ہو بلکہ مومن جو کہتا ہے وہ کر کے دکھا دیتا ہے مومن انسانوں والی قربانی ہو۔مومن جو کچھ کہتا ہے وہ کر کے بھی دکھا دیتا ہے۔تم وہ بات نہ کہو جس پر خود عمل نہ کر سکو یا جماعت کو جس پر نہ چلا سکو۔اور اگر کوئی بات کہتے ہو تو اُس پر خود بھی عمل کرو اور جماعت کو بھی کراؤ۔اگر کوئی شخص اس پر عمل نہیں کرتا تو اُس کے متعلق مرکز میں لکھ دو کہ وہ ہمارے ساتھ چلنے کے لئے تیار نہیں ہے۔اسلام کا جھنڈا سر نگوں نہیں ہو سکتا ہم سب جس قدر یہاں جمع ہیں اس ارادہ کے ساتھ کھڑے ہوں کہ دُنیا کی کوئی طاقت ہمیں اپنے مقصد و مدعا میں نا کام نہیں کر سکتی۔اگر ہم میں سے چند بھی باقی رہ جائیں گے تو وہ نا کام نہیں ہوں گے بلکہ اگر ایک بھی نہیں رہے گا تو بھی اسلام کا جھنڈا سر نگوں نہیں ہو سکتا۔حنین کی جنگ میں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکیلے رہ گئے تو آپ نے حضرت عباس سے فرمایا آواز دو کہ اے انصار! اللہ کا رسول تمہیں بُلاتا ہے جب میں یہ واقعہ پڑھتا ہوں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لے کر اس وقت تک کی تیرہ صدیاں سمٹ کر وہ نظارہ میری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے اور دُوری کا سوال اُڑ جاتا ہے۔اس وقت میں سمجھتا ہوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز مجھے سنائی دے رہی ہے اور میں لبیک کہتا ہوا حاضر ہو رہا ہوں۔پھر غور کرو جن کے کانوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے عباس کی آواز کاغذ اور سیاہی کے ذریعہ نہیں پہنچی بلکہ آواز اُن کے کانوں میں براہ راست پہنچی اُن کی کیا کیفت ہوتی ہو گی۔وہ کہتے ہیں ہمیں ایسا معلوم ہوا کہ صور اسرافیل پھونکا گیا ہے۔اُس وقت اُن کے گھوڑے اور اونٹ بھاگے جا رہے تھے۔اِس حالت میں اُن کا لوٹنا کتنا مشکل تھا مگر جب حضرت عباس نے یہ آواز بلند کی کہ خدا کا رسول تمہیں بلاتا ہے تو اُنہوں نے اپنی سواریوں کو موڑنے کی کوشش کی۔جب وہ زور لگاتے تو سواریوں کے منہ مڑ کر پیٹھ کو جا لگتے مگر جب چھوڑتے تو پھر آگے کو