خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 616 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 616

خطابات شوری جلد اوّل ۶۱۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا دوستو مشورہ دو۔یہ تین دفعہ آپ نے کہا۔اس پر ایک انصاری کھڑے ہوئے اور کہا يَا رَسُولَ الله ! کیا آپ کی مراد ہم سے ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں۔اس کی وجہ یہ تھی کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے اور انصار سے معاہدہ ہوا تو اس کی ایک شرط یہ تھی کہ اگر کفار مدینہ پر چڑھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حملہ کریں گے تو ہم لڑیں گے باہر جا کر لڑنے کے ذمہ وار نہیں۔یہ لڑائی چونکہ باہر تھی اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انصار سے پوچھتے تھے۔اُس وقت ایک انصاری کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! وہ معاہدہ اُس وقت ہوا تھا جب کہ ہم پر حق پوری طرح نہ گھلا تھا۔اب جب کہ ہمیں آپ کے ذریعہ ایمان نصیب ہوا ہے تو ہم سے یہ سوال ہی کیا ہے کہ لڑو گے یا نہیں۔يَا رَسُولَ اللہ ! یہ سامنے سمندر ہے۔آپ اشارہ فرمائیں کہ اِس میں گھوڑے ڈال دو ہم آپ سے کچھ پوچھے بغیر فوراً ڈال دیں گے۔جب جنگ ہوگی تو ہم آپ کے دائیں اور بائیں ، آگے اور پیچھے لڑیں گے اور کوئی آپ تک نہ پہنچ سکے گا جب تک ہماری لاشوں پر سے گذرتا ہوا نہ آئے گا۔سے یہ بات اُس انصاری نے کہہ دی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سن لی۔ایک صحابی نے جو تیرہ یا سترہ غزوات میں شامل ہوئے ایک دفعہ ایک موقع پر آہ بھر کر کہا کاش! میں ان غزوات میں شریک نہ ہوتا اور ان کا ثواب مجھے حاصل نہ ہوتا مگر یہ فقرہ میرے منہ سے نکلا ہوتا۔ہر احمدی کو کیا عہد کرنا چاہئے مجھے بھی اس صحابی کی طرح فخر حاصل ہے جب میں اپنی زندگی پر نظر ڈالتا ہوں اور اس فقرہ اور معاہدہ پر نظر ڈالتا ہوں تو سمجھتا ہوں وہ بہترین موقع تھا جو خدا تعالیٰ نے مجھے دیا۔ایسا ہی معاہدہ کامیاب کر سکتا ہے۔جب تک ہر ایک احمدی اپنی آنکھوں کے سامنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مقدس لاشوں کو رکھ کر یہ معاہدہ نہیں کرتا کہ میں اپنا سب کچھ اسلام کے لئے قربان کر دوں گا کامیاب نہیں ہوسکتا۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان فرمایا کہ جنت میں یہ درجہ اور یہ منصب ملے گا۔ایک صحابی کھڑا ہوا۔اُس نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! میرے لئے دُعا فرمائیں