خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 615 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 615

خطابات شوری جلد اوّل ۶۱۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء حقیقی عشق کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ کسی کے کہنے کسی کے سمجھانے اور کسی کے بیدار کرنے کے بغیر آپ لوگ بیدار ہوں ؟ اگر حقیقی عشق ہو تو پھر کسی کے بیدار کرنے کی ضرورت نہیں ہوا کرتی۔تب یہ ضرورت تو پیش آ سکتی ہے کہ سُلانا پڑے تا کہ پاگل نہ ہو جائے مگر یہ ضرورت نہیں پیش آیا کرتی کہ بیدار کرنا پڑے۔انبیاء کی قلبی حالت میں نہیں جانتا اپنے متعلق کہتا ہوں بسا اوقات جوش کو اس لئے دبانا پڑتا ہے کہ کہیں جنون نہ ہو جائے۔میں سمجھتا ہوں جب عشق الہی کی آگ دل میں لگی ہو تو پھر کسی کے بیدار کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ایسی حالت کے چند لمحے دوسری تمام زندگی سے قیمتی ہوتے ہیں۔زندگی کا ایک نہایت قیمتی لمحہ میری زندگی میں بھی ایسا لمحہ اُس وقت آیا جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا انتقال ہوا اُس وقت میری عمر انیس سال کی تھی۔جب میں نے لوگوں کو یہ کہتے سنا کہ اب کیا ہوگا، ابھی کئی پیشگوئیاں پوری نہیں ہوئیں اور ایک شخص تو ایسے موقع پر مرتد بھی ہو گیا۔اُس وقت خدا تعالیٰ نے مجھے توفیق دی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سرہانے کھڑے ہو کر خدا تعالیٰ سے مخاطب ہو کر میں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تیری طرف سے آئے ، اب میں تیرے ہی سامنے تیرے ہی تقدس کی قسم کھا کر اقرار کرتا ہوں کہ اگر سارے کے سارے لوگ بھی مرتد ہو جائیں تو میں تیری راہ میں اپنی جان لڑا دوں گا۔یہ وہ پہلے الفاظ اور پہلا کام تھا جو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد کیا۔میں نے خدا تعالیٰ کی توفیق سے بڑے بڑے کام کئے ہیں مگر میں اس کام کو سب سے بڑا سمجھتا ہوں۔جب کے بدر کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گئے تو آپ نے پوری طرح اعلان نہ کیا تھا کہ جنگ ہوگی یا نہیں اور مجھے یہ معلوم نہیں کہ اس بات کا یقینی علم آپ کو کہاں ہوا۔اُس وقت جو صحابہ آئے وہ پوری طرح تیار نہ تھے۔تب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن سے کہا کہ خدا تعالیٰ نے بتایا ہے جنگ ہوگی ، دشمن آ رہا ہے اب بتاؤ کیا رائے ہے؟ اُس وقت کئی ایک صحابہ اُٹھے اور انہوں نے کہا رائے کیا ہم جنگ کے لئے تیار ہیں مگر یہ کہنے والے مہاجرین تھے، انصار نہ تھے۔جب وہ بول چکے تو