خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 611
خطابات شوری جلد اوّل ۶۱۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء میں تیر سکتا۔اگر فاصلہ لمبا ہو تو تین صورتیں ہوں گی۔(۱) کسی جگہ اُس کو رکھ دے۔یا (۲) جس کو اُٹھایا ہوا ہو اُ سے ہوش آ جائے اور اس طرح بار ہلکا ہو جائے یا (۳) دونوں ڈوب جائیں۔ہمارے متعلق یہ تو ہو نہیں سکتا کہ ہم کہیں ہم پر دوسروں کا جو بوجھ پڑا ہوا ہے اس کی وجہ سے ہم بھی ڈوب جائیں۔یہ قربانی اور جگہ کر سکتے ہیں لیکن احمدیت کے متعلق نہیں کر سکتے۔رہی یہ صورت کہ اس بوجھ کو کچھ دیر تک برداشت کریں اور کچھ دُور تک لے جائیں یہ ہوسکتا ہے لیکن اگر ان کو جو بوجھ بنے ہوئے ہیں پھر بھی ہوش نہ آئے تو ہم کہیں گے اُن کو چھوڑ دو اور خود آگے بڑھو۔غافل ہوشیار ہو جائیں پس جو لوگ غافل اورست ہیں اُن کو ہوشیار ہو جانا چاہئے۔ایک حد تک ہم اُن کا لحاظ کر سکتے ہیں۔اگر دُنیوی حالات ہوں مثلاً کوئی بیمار ہو یا کوئی تکلیف ہو یا کوئی اور معاملہ ہو تو ہم انتہا تک ساتھ دینے کے لئے تیار ہیں لیکن جہاں سلسلہ کا سوال ہو وہاں ایک حد تک ہی اُن کے ساتھ جائیں گے اور پھر کہنا پڑے گا کہ اگر ڈوبتے ہو تو ڈوب جاؤ اب ہم تمہارے ساتھ نہیں چل سکتے۔اچھی طرح سُن لو پس جہاں میں کمزوروں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ ہوشیار ہو جائیں وہاں اُن لوگوں کو جن کے دل میں درد ہے کہتا ہوں کہ جن لوگوں کے ساتھ ان کے تعلقات ہیں انہیں ہوشیار کرنے کی کوشش کریں ورنہ وہ زمانہ قریب آرہا ہے جب کہ اپنے قریبی رشتہ داروں حتی کہ احمدی کہلانے والوں کو بھی چھوڑنا پڑے گا۔سُن لو اور خوب اچھی طرح سُن لو کہ تمہیں اپنی اصلاح کے لئے ایک کافی زمانہ ملا اب ہم اور زیادہ انتظار نہیں کر سکتے۔ہمارے ذمہ ایک بہت اہم کام ہے اور وہ دُنیا کو خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچانا ہے۔خدا تعالیٰ نے ہمیں صداقت اور حقانیت دی اور فرمایا جاؤ ساری دُنیا کو پہنچاؤ۔اہم کاموں میں تو لوگ مرنا بھی بھول جاتے ہیں ، پھر کیا ہم زندہ رہنا بھی نہیں بھول سکتے۔مرنا بُھول جانے والے کہا جاسکتا ہے کہ کس طرح کوئی مرنا بھول سکتا ہے مگر ایسے لوگ ہوتے ہیں جو واقعی بھول جاتے ہیں۔ظاہری حالات ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں مر جانا چاہئے مگر وہ اس وقت تک نہ مرے جب تک انہوں نے اپنا کام نہ کر لیا۔تاریخوں میں آتا ہے ایک قلعہ تھا جس پر قبضہ کر لینے پر نپولین کی فتح کا