خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 603
خطابات شوری جلد اول ۶۰۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء تھا کہ سب سے ایک سلوک کے متعلق کہا گیا ہے۔ مگر یہ ٹیکسیشن نہیں ہے بلکہ زمانہ کی ضرورت کے لحاظ سے ا اقل تعداد نکال لی جاتی ہے کہ یہ دیا جائے ۔ ہم نے ایک حد مقرر کر دی ہے کہ اقل یہ ہے ۔ اسے ٹیکسیشن نہیں کہنا چاہئے ۔ کہا گیا ہے کہ بعض کی آمدنی کم ہوتی ہے مگر اُن سے بھی چندہ اسی شرح سے لیا جاتا ہے جس سے زیادہ آمدنی والوں سے لیا جاتا ہے۔ اس سوال کی روح تو ٹھیک ہے اور وہ یہ کہ کسی پر نا قابلِ برداشت بوجھ نہ پڑے بلکہ جتنی طاقت ہو اتنا ہی بوجھ ڈالا جائے مگر ایک بات کو نظر انداز کر دیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ کسی کی آمد کو ہی نہیں دیکھا جاتا بلکہ اُس کے اخراجات کو بھی دیکھنا چاہئے ۔ ایک آدمی کی پندرہ روپے ماہوار آمد ہے اور وہ دو مد ہے اور وہ دو کس کھانے والے ہیں اور ایک کی تمیں روپے آ آمد ہے اور چھ کس کھانے والے تو اس کا خرچ ۱۵ روپے آمد والے سے زیادہ ہوگا۔ پس ہر شخص کے متعلق یہ دیکھا جائے کہ اُس پر بار کتنا ہے۔ اگر کسی پر طاقت سے زیادہ بار ہے تو اُس کا کیس مرکز میں پیش کیا جائے اس پر ہم غور کریں گے ۔ اس طرح اگر کوئی جائزہ مشکل ہوئی تو وہ ڈور کی جا سکتی ہے۔ اس بارے میں ہمیں فراخ دلی سے کام لینا چاہئے کہ جو صحیح مجبوری ہوا سے پیش کر دیا جائے اور پھر ضرورت کو دیکھ کر کمی کر دی جائے۔ اِس میں احساسات کی قربانی کرنی پڑے گی مگر سلسلہ کے نظام کے لئے اگر اپنے گھر کے حالات بتا دیئے جائیں اور مجبوری پیش کر دی جائے تو کیا حرج ہے۔ چندہ نہیں دیا صدر سے چندہ کہا ا گیا ہے کہ مقررہ نررہ شرح شرح نہ نہ ہو ہو اس اس طرح بعض اوقات شرح جاتا اور اس پر ثواب نہ ہوگا ۔ مگر یاد رکھنا چاہئے شرح صدر نہ ہونا ہر حال میں مصر نہیں بلکہ بعض دفعہ مفید بھی ہوتا ہے ۔ ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے عرض کیا نماز کے لئے کھڑے ہونے میں شرح صدر نہیں ہوتا ۔ آپ نے فرمایا ایسی حالت میں نماز پڑھنے سے تمھیں دُہرا ثواب ہو گا ۔ ایک نماز پڑھنے کا اور دوسرا طبیعت کو نماز پڑھنے کے لئے مجبور کرنے کا ۔ اب پونے دو بج چکے ہیں اس لئے میں چند منٹ ہی اور بول سکتا ہوں ۔ گو موجودہ حالات کے لحاظ سے میں سمجھتا ہوں مجھے کم از کم ایک گھنٹہ بولنے کے لئے ملنا چاہئے تھا مگر وہ وقت دوستوں نے لے لیا اس لئے مختصر طور پر چند باتیں کہتا ہوں ۔