خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 598
خطابات شوریٰ جلد اوّل ۵۹۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء عالم ہیں۔یہ مسئلہ ہے جو ہمارے سامنے پیش تھا اس لئے اس رنگ میں بحث کرنی چاہئے تھی کہ اس نقص کو دور کرنا چاہئے۔یہ الزام ان پر چسپاں نہ ہوتا تھا کہ تم اردو، انگریزی، حساب، جغرافیہ، تاریخ نہیں پڑھانا چاہتے۔ٹیکسٹ بک کمیٹی کی تجویز اس لئے تھی کہ ایسے علوم کی کتابیں تیار کرے اور یہی جواب کافی تھا کہ اس کمیٹی کے کام کے لئے انتظار کرو۔ہر علم اسلامی روشنی میں بیان کیا جا سکتا ہے یعنی اسے ایسے رنگ میں بیان کر سکتے ہیں کہ اس کے نتائج اسلام کی تائید میں ہوں۔دینی تعلیم کے صرف یہ معنی نہیں کہ قرآن کا ترجمہ اور حدیث کا ترجمہ پڑھایا جائے بلکہ یہ جذبہ غالب ہو کہ جو کچھ بھی پڑھائیں گے دین کے لئے پڑھائیں گے۔سب علوم اسلام کے موید قرار دیئے جائیں۔یورپ اپنے رنگ میں یہی کر رہا ہے کہ ہر علم کو اپنی تھیوریوں کی تائید میں ڈھال رہا ہے۔ہم اپنی کتابوں کو اسلام کی تائید میں ڈھال سکتے ہیں۔اردو کی کتابیں، حساب کی کتابیں، جغرافیہ، تاریخ کی کتابیں ایسی طرز پر لکھیں کہ ان میں دین کی باتیں آجائیں۔وراثت کے مسائل موجودہ حساب کی کتابوں سے حل نہیں ہو سکتے۔ان میں سودی حساب پر زیادہ زور ہے۔یہی وجہ ہے کہ آجکل کے حساب دان وراثت کا حساب اس عمدگی سے نہیں نکال سکتے جس عمدگی سے پرانے مولوی نکال سکتے ہیں۔پس ہم ہر علم کی کتابیں اس رنگ میں ڈھال لیں کہ اسلامی ضروریات کے مطابق تعلیم دی جا سکے۔میرے نزدیک یہ بحث اختلاف لفظی کی بناء پر تھی ور نہ حقیقت میں اتحاد تھا۔دونوں فریق ایک دوسرے کی مخالفت نہیں کر رہے تھے بلکہ کوشش کر رہے تھے کہ ایک نقطہ پر جمع ہو جائیں۔وہ دوست جن کے متعلق میں نے کہا کہ انہوں نے معقول بات پیش کی مگر اس پر زور نہیں دیا کہ دینی تعلیم اصل قرار دی جائے اور دوسری اس کے ساتھ لگا دی جائے، وہ چوہدری محمد لطیف صاحب تھے۔ایک دوست نے اعتراض کیا تھا کہ کافی وقت جماعت کو غور کے لئے نہیں دیا گیا۔ناظر صاحب نے اس کا جواب دیا تھا مگر میرے نزدیک اعتراض معقول تھا۔وقت کافی نہ تھا مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ سکیم کو پیچھے ڈال دیا جائے کیونکہ اس طرح کام نہیں چل سکتا۔اس جگہ جتنی باتیں ہوئی ہیں بہت سی اِن میں معقول تھیں اور مفید تھیں مگر جب لوگوں کی