خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 595 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 595

خطابات شوری جلد اوّل ۵۹۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء نے مہاجرین کو دینے کے لئے کہا تو انصار میں سے کسی نادان نے کہہ دیا خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور مال مہاجرین کو دے دیا گیا ہے۔اس پر دوسروں نے بہت کچھ ندامت اور معذرت کا بھی اظہار کیا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اب تم حوض کوثر پر ہی مجھ سے ملنا اس دُنیا میں تمہارے لئے کچھ نہیں نا تو کئی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں مگر اُس وقت کی فضا اور ماحول ایسا بن جاتا ہے کہ ان کے نتائج بہت بڑے نکلتے ہیں۔تعلیم میں بھی بعض باتیں چھوٹی نظر آتی ہیں مگر ان کے نتائج بہت اہم نکلتے ہیں۔اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کسی قسم کی تعلیم ہو ہمیں اس کے متعلق گفتگو کرتے وقت ایسا طرز رکھنا چاہئے کہ یہ احساس پیدا ہو کہ ہم دین کو دُنیا پر مقدم رکھتے ہیں۔کل جو تعلیم کے متعلق بحث ہوتی رہی اور لطیف بحث ہوئی اس سے مجھے بہت لطف آیا۔جو اس امر پر زور دیتے تھے کہ سکیم میں زیادہ تر دنیوی تعلیم رکھی گئی ہے وہ یہ کہتے تھے کہ دین کی تعلیم پر زیادہ زور دینا چاہئے اور جو سکیم کی تائید میں تھے وہ کہتے تھے کہ یہ سب دینی تعلیم ہے۔تاریخ، جغرافیہ، حساب سب دین سے متعلق باتیں ہیں۔تو ہر فریق میں سے اسی چیز کو ایک دُنیا اور ایک دین قرار دے رہا تھا اور واقعی وہ علوم ابتدائی حالت میں ایسے ہیں کہ خواہ انہیں دینی بنا لو یا ڈ نیوی لیکن اس سے بڑا فرق پڑ جائے گا۔اگر ان علوم کو دُنیوی کہہ کر پڑھا جائے تو اسی سکیم کے مطابق جو پڑھیں گے، اُن پر یہی اثر ہوگا کہ یہ دنیوی تعلیم ہے لیکن اگر کوئی تاریخ اس لئے پڑھے کہ اسلام کے کام معلوم ہوں، حساب اس لئے پڑھے کہ خدمت اسلام میں مددگار ثابت ہو، جغرافیہ اس لئے پڑھے کہ اشاعتِ اسلام کے لئے ممالک کے حالات معلوم ہوں تو وہی تاریخ، وہی حساب اور وہی جغرافیہ پڑھنے والوں میں یہ احساس پیدا ہوگا کہ ہم دینی تعلیم حاصل کر کے نکلے ہیں۔ایک دوست نے ایک عمدہ بات پیش کی تھی مگر اس پر زور نہیں دیا۔شاید اس کے لئے انہیں موقع نہیں ملا یا اُنہوں نے اسے اہمیت نہیں دی لیکن اُن کی بات معقول تھی۔اُنہوں نے کہا جو کورس تجویز کیا گیا ہے اس میں یوں رکھا ہے کہ یہ کورس ہو گا اور اس میں یہ دینی تعلیم ہو گی مگر اس کی بجائے یہ کیوں نہ رکھیں کہ یہ دینیات کی تعلیم ہے، اس میں اور تعلیم زائد کی جاتی ہے۔پس اس سکیم کو اس طرح ڈھال دینا چاہئے کہ پہلی پانچ سالہ تعلیم یہ ہوگی