خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 593 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 593

خطابات شوری جلد اوّل ۵۹۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء کے بعد ہم جبر یہ تعلیم جاری نہیں رکھتے تو مڈل تک سارے قرآن کا ترجمہ پڑھانا لازمی ہونا چاہئے۔خواہ اس کے لئے تعلیم میں سال بڑھانا پڑے۔خواہ دوسرا کورس کم کرنا پڑے۔بہر حال ایسا ہونا چاہئے کہ جہاں تک لازمی تعلیم رکھتے ہیں، وہاں تک ہمارا لا زمی کورس اور لازمی تعلیم آجانی چاہئے۔جو پرائمری تک لازمی تعلیم قرار دیتے ہیں وہ اس حد تک اس تعلیم میں لکھنا پڑھنا سکھا دیتے ہیں جو ضروری ہوتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ قرآن کریم کا با ترجمہ پڑھنا لازمی ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو جہاں ہم اجازت دیتے ہیں کہ تعلیم ختم کر دو اس کے اندر قرآن کریم با ترجمہ پڑھنا آ جانا چاہئے۔پس یہ بات بھی کمیٹی کو مدنظر رکھنی چاہئے کہ مڈل کے کورس میں قرآن کریم کا ترجمہ کس طرح شامل کر سکتے ہیں۔اس کے لئے سال بڑھا سکتے ہیں یا کورس میں اس کا اضافہ کر سکتے ہیں یا کوئی اور مضمون اُڑا کر اُس کو رکھ سکتے ہیں۔باقی معاملات کل پر ملتوی کئے جاتے ہیں۔“ تیسرا دن مجلس مشاورت کے تیسرے دن یکم اپریل ۱۹۳۴ء کوگزشتہ روز کی کارروائی کے تسلسل میں مڈل کے کورس کی بابت تجویز پر چند دوستوں کے اظہارِ خیال کے بعد حضور نے فرمایا : - زنانہ تعلیم کے متعلق جور پورٹ کمیشن نے کی ہے اور جو اس کی اصلاح سب کمیٹی نے کی ہے وہ تو دوستوں کے سامنے پیش ہو چکی ہے اس کے متعلق میں احباب کی رائے بھی سُن چکا ہوں۔تعلیم کا سوال ایک ایسا نازک سوال ہے کہ اس کی اہمیت کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے اس مسئلہ کا نہایت گہرا مطالعہ کیا ہے۔بعض نہایت ہی چھوٹی چھوٹی باتیں اخلاق پر اتنا گہرا اثر ڈالتی ہیں کہ ان کی ظاہری شکل سے ان کے اثرات کا اندازہ لگانا ناممکن ہوتا ہے۔قرآن کریم میں ایک تعلیم آتی ہے۔اللہ تعالیٰ صحابہ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ رسول کو مخاطب کرتے وقت راعنا نہ کہا کرو بلکہ تمہاری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ احتیاط سے سنو اور غور کرو کہ رسول نے کیا فرمایا ہے لیکن اگر ایسے موقع پر کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو انظرنا کہا کرو یہ کیوں کہا گیا؟ اس لئے راعنا کہنے میں ایک چھوٹا سا فرق پڑ جاتا ہے۔بظاہر تو اس کے معنے یہ ہیں کہ ہم پر مہربانی کیجئے ، ہمارا لحاظ کیجئے۔مگر یہ لفظ مراعات