خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 590 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 590

خطابات شوری جلد اوّل ۵۹۰ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء تک در شمشین کی چند نظموں کے سوا کچھ نہیں رکھا گیا۔اس لئے پرائمری تک جولڑ کیاں تعلیم ختم کر دیں سوائے اُس تعلیم کے جو گھر پر دین کے متعلق انہیں دی جائے انہیں اور کچھ واقفیت نہ ہوگی۔پیرا کبر علی صاحب نے کہا ہے کہ لڑکیوں کی دینی تعلیم گھر پر ہورہی ہوگی مگر سب کی نہیں۔جو ٹو مسلم خاندان ہیں اُن کی عورتیں بچوں کو گھر پر تعلیم نہیں دے سکتیں۔اور جو مسلمان خاندان ہیں ان کے مرد اور کاموں میں اس طرح مصروف ہوتے ہیں کہ بچوں کی تعلیم کی طرف متوجہ نہیں ہو سکتے اور عام طور پر مائیں خود دینی تعلیم سے پوری طرح واقف نہیں ہوتیں۔یہ تو نہیں ہو سکتا کہ پرائمری تک لڑکیاں دینی تعلیم سے ماہر ہو جائیں اور دینی مسائل کے متعلق دلائل سے واقف ہوسکیں مگر بغیر دلائل کے اُن کو اصولی طور پر واقف ہونا چاہئے۔اس کے لئے ایسا ہو کہ اُستاد یا اُستانی زبانی طور پر دینی باتیں سکھا دے۔(۱) اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عمل سے ثابت ہے اور آپ نے یہی رکھا کہ پہلے قرآن پڑھایا جائے پھر اور تعلیم شروع کرائی جائے۔قرآن کریم پڑھانے کے ساتھ کچھ لکھنا پڑھنا بھی سکھایا جا سکتا ہے مگر یہ نہیں کہ قرآن کریم تعلیم شروع کرانے کے تین چار سال بعد جا کر پڑھایا جائے۔میری بھی اپنے بچوں کی ماؤں کو یہی ہدایت ہے کہ پہلے قرآن کی تعلیم دو پھر اس کے بعد اور تعلیم دو۔پس دینی تعلیم کے لئے اصولی بات یہ ہو کہ ہم ہر بچہ کو خواہ لڑکا ہو یا لڑکی پہلے قرآن کریم ختم کرا ئیں اور پھر اور تعلیم شروع کرائیں۔اس طرح قرآن کریم کی تعلیم کو مقدم کر لیا جائے اور اس کے بعد اور تعلیم شروع ہو۔ایک تجویز یہ پیش کی گئی ہے کہ انجمن حمایت اسلام کی تجویز کردہ مذہبی کتابیں نصاب میں داخل نہ ہوں کیونکہ اُن میں کئی باتیں ہمارے عقائد اور اسلام کی صحیح تعلیم کے خلاف ہیں۔یہ بھی اہم بات ہے اب تو میں نہیں جانتا کہ آجکل ان کتابوں کا کیا حال ہے لیکن جب ہم پڑھا کرتے تھے اس وقت بھی ان کتابوں میں بیسوں باتیں ایسی تھیں جو اسلامی تعلیم کے خلاف تھیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جنگوں کا ہی اس طرح ذکر کیا گیا تھا کہ گویا آپ نے بادشاہ کے طور پر جنگیں کی ہیں۔پس اس بات کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے (۲) کہ نصاب میں کوئی ایسی کتاب نہ ہو جس میں اسلامی تعلیم کو صحیح رنگ میں پیش نہ