خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 588
خطابات شوری جلد اوّل ۵۸۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء لئے کہا گیا ہے کہ باہر پینے سے نئی پود پر اثر نہ پڑے۔میرا دل بعض دفعہ اس بات سے متاثر ہوا ہے کہ رمضان میں ایسے موقع پر سفر کرنا اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے مطابق ہے یا نہیں۔مگر یہ درست نہیں کہ رمضان میں جلسہ کرنے سے لوگوں پر بُرا اثر ڈالا ہے۔میرے پاس متعدد چٹھیاں آئی ہیں کہ رمضان میں اتنے لوگوں کا انتظام قادیان والوں کا روزہ رکھ کر عمدگی سے کام کرنا بہت متاثر کرنے والی بات ہے۔حقی کہ احراریوں پر بھی اس کا اثر ہوا ہے۔مگر مجھے اس پر انشراح نہیں کہ رمضان میں دیدہ دانستہ سفر کیا جائے جس کی وجہ سے انفرادی طور پر نہیں بلکہ اجتماعی طور پر بڑا حصہ روزہ سے محروم ہو جائے مگر یہ بات شبہ کی حد تک ہے۔ادھر گزشتہ سال یہ تجربہ کر لیا گیا ہے کہ کارکن رمضان میں کام کر سکتے ہیں۔مگر میں اپنی ذات میں فیصلہ نہیں کر سکا کہ رمضان میں جلسہ ملتوی کرنا ضروری ہے یا غیر ضروری۔اس لئے میرے لئے نیوٹرل (NEUTRAL) رہنے والا مسئلہ ہے۔لیکچروں کے لحاظ سے رمضان میں اتنے ہی لمبے لیکچر دیئے جائیں جتنے دیئے جاتے ہیں تو ہر ایک پر گراں گزرے گا۔رمضان میں درس یوں تو چھ چھ گھنٹے دیتا رہا ہوں مگر آہستہ بولتا تھا مگر اتنے بڑے مجمع کو جو جلسہ پر جمع ہوتا ہے دیر تک مخاطب کرنا مشکل۔بھی ہو سکتا ہے لمبے لیکچر کی بجائے کم کر دیا جائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صبح سویرے ہی لیکچر رکھ دیا جائے۔اس پر بھی غور ہو سکتا ہے۔غرض اِس میں جو شرعی پہلو ہے قلب ابھی تک اس کے متعلق فیصلہ نہیں کر سکا کہ اتنے لوگوں کا آنا رمضان کے احترام کو کم تو نہیں کرتا۔مگر میں یہ بھی نہیں فیصلہ کر سکا کہ کم کرتا ہے۔ایسے پہلو بھی ہیں کہ احترام کو بڑھاتا ہی ہو۔اس لئے میں اس کے متعلق جماعت کی کثرتِ رائے کو منظور کر لوں گا۔پس جو دوست اس بات کی تائید میں ہوں کہ جلسہ مقررہ ایام میں رمضان میں ہی ہو وہ کھڑے ہو جائیں۔“ بہت کثرت سے احباب کھڑے ہو گئے۔” جو اس کے مقابلہ میں یہ کہتے ہوں کہ ایسٹر میں جلسہ ہو۔وہ کھڑے ہو جائیں۔“ (۲۴ رائیں) میں بتا چکا ہوں کہ جماعت کی کثرت کے مطابق فیصلہ کروں گا۔میں فیصلہ کرتا ہوں آئندہ بھی جلسہ دسمبر کے مقررہ ایام میں ہی ہوگا۔ایک نقص یہ بھی دوستوں