خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 582
خطابات شوری جلد اوّل ۵۸۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء لوگ ہجرت نہ کریں۔اگر اسی طرح کام چل سکتا ہو کہ یہاں کے کارکن آنریری طور پر کام کریں اور تنخواہوں کا سسٹم اُڑا دیا جائے تو کیوں ایسا ہی نہ کیا جائے۔بہر حال سلسلہ کا کام ہونا چاہئے۔ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ فلاں کام ہم نہیں کر سکتے۔وہ کام جسے خدا تعالیٰ نے ضروری قرار دیا ہے اسے ہم کسی صورت میں رد نہیں کر سکتے۔ترقی کے لئے موت قبول کرنا ضروری ہے چوتھی بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری جماعت ایک ایسے مرحلہ سے گزر رہی ہے کہ میرے نزدیک ایسا معلوم ہوتا ہے بہتر اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے جیسے ولادت کے وقت زچہ کی حالت ہوتی ہے وہی ہماری جماعت کی حالت ہے۔دُنیا میں ہر وہ قوم جو ترقی کی طرف جاتی ہے موت قبول کرتی ہے۔اس زمانہ میں ہمارے لئے بھی ویسی ہی موت تیار ہے۔چونکہ ہم جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے زندگی پیدا کی ہے اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے لئے وہ موت نہیں ہے جس کا نتیجہ عدم ہوتا ہے بلکہ وہ موت ہے جس کے بعد ولادت ہوتی ہے۔جس طرح زچہ کے لئے اُس وقت کی تکلیف بہتر خیال کی جاتی ہے ایسا ہی ہمارے لئے یہ زمانہ بہتر خیال کیا جا سکتا ہے۔اگر اس میں ہم کامیاب ہو گئے تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ جماعت کو دوام حاصل ہو جائے گا لیکن اگر ہم سستی اور کوتاہی کریں گے تو خدا کے کام پر موت وارد نہ ہوگی البتہ ہمارے اوپر الزام عائد ہوگا۔جماعت احمدیہ کی مخالفت گزشتہ دنوں کے خطبات میں میں نے بتایا ہے کہ ہمارے خلاف مخالفت کی ایک عام رو چلی ہوئی ہے۔اس کے متعلق میں نے مختلف لوگوں سے گفتگو کی۔اُن کی طرف سے اس قدر اسباب اس مخالفت کے بیان کئے جاتے ہیں کہ ان میں سے کسی کو بھی حقیقی نہیں کہہ سکتے۔پچھلے دنوں میں لاہور گیا تو پولیس کے ایک بڑے افسر ملنے کے لئے آئے۔اُن سے میں نے پوچھا کیا آپ کے نزدیک بھی آجکل ہماری مخالفت بڑھ گئی ہے؟ انہوں نے کہا ہاں۔میں نے کہا آپ کے نزدیک اس کی کیا وجہ ہے؟ کہنے لگے آپ لوگ چونکہ سیاست میں حصہ لینے لگے ہیں، اس لئے بد دیانت لوگوں کو خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ اب ان کے ہاتھ سے کام نکل جائے گا۔میرے نزدیک یہ بھی ایک وجہ ہے۔مگر کئی اور جگہ اس قسم کے اسباب نہیں مگر وہاں بھی