خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 581
خطابات شوری جلد اوّل ۵۸۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء یہ دیکھنا چاہئے کہ کام ضروری ہے یا نہیں؟ اگر ضروری ہے تو اُس کے لئے روپیہ مہیا کرنا چاہئے لیکن اگر روپیہ مہیا نہ کر سکیں تو طریق کار کو بدل دیں اور میں سمجھتا ہوں طریق کار کو بدل دینے سے کئی کام ہو سکتے ہیں جو ابھی تک یونہی پڑے ہیں۔آمد بڑھانے پر زور دیا جائے کیا ہیں ؟ پس ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ جو کام ہمارے پیش نظر ہیں وہ ضروری ہیں یا نہیں۔اگر ضروری ہوں تو ان کے لئے جس طرح ممکن ہو خرچ مہیا کرنا چاہئے۔یہ نہیں جیسا کہ گزشتہ سالوں میں ہوتا رہا ہے کہ آمد پر غور ہی نہیں کیا جاتا اور اس پہلو پر زور ہی نہیں دیا جاتا۔پچھلے سال میں نے اس پر زور دیا تھا کہ ہر ایک احمدی سے ضرور چندہ لیا جائے۔اس کا اثر یہ ہوا کہ چندہ عام میں ۳۸ فیصدی اور چندہ وصیت میں ۲۵ فیصدی زیادتی ہوئی۔گو بجٹ میں پھر بھی کمی رہی مگر ساری جماعت میں اس پر عمل نہیں ہوا۔اگر اس پہلو پر زور دیں تو آمد میں بہت اضافہ ہو سکتا ہے اور اس سال کے تجربہ نے بتا دیا ہے کہ بہت سانقص آمد بڑھانے پر زور نہ دینے کی وجہ سے ہے۔یہاں جماعتوں کے جو نمائندے آتے ہیں وہ خرچ کو کم کرنے پر زور دیتے ، آمد بڑھانے کی طرف اُن کی توجہ نہ ہوئی۔اگر اس پہلو پر زور دیا جائے تو جماعتوں میں بیداری بھی پیدا ہو سکتی ہے اور آمد بھی بڑھ سکتی ہے۔اس سال ہر احمدی سے چندہ وصول کرنے پر مکمل طور سے عمل نہیں ہوا۔اگر مکمل طور پر عمل ہوتا تو نہ صرف بجٹ پورا ہو جاتا بلکہ بہت سا قرضہ بھی ادا کرنے کے ہم قابل ہو سکتے تھے۔پہلے بجٹ آمد ۲ لاکھ ایک ہزار تجویز ہوا تھا پھر جائنٹ ناظروں کی تشخیص کے بعد ۲ لاکھ ۷۳ ہزار ہوا تھا۔یہ بھی پوری تشخیص نہ تھی پوری تشخیص ہونے پر پچاس فیصدی ترقی ہو سکتی تھی۔بہر حال یہ معلوم ہو گیا کہ آمد بڑھانے کے ذرائع موجود ہیں مگر ان کو استعمال نہیں کیا جاتا۔اب بھی میں سمجھتا ہوں کہ اس طریق کو جاری رکھنے سے آئندہ اور بھی بجٹ آمد میں ترقی ہوگی۔ضروری کام بہر حال کرنے ہیں پس مشورہ دیتے وقت یہ بات مد نظر رکھنی چاہئے کہ جو ضروری کام ہیں وہ بہر حال ہونے ہیں۔ان کے متعلق یہ جواب نہیں دیا جا سکتا کہ روپیہ نہیں ہے بلکہ طریقِ کار بدلنا ہو گا۔کیا وجہ ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت صحابہ کو ہجرت کرنی پڑی مگر ہماری جماعت کے