خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 580
خطابات شوری جلد اوّل ۵۸۰ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء چھوٹی باتوں میں فرق نظر آئے گا۔جب اس طرح فرق پایا جاتا ہے تو کیا پھر ہمارے اور دوسرے لوگوں میں فرق نہ ہو گا ؟ جب کہ ہم نے نیا آسمان اور نئی زمین بنانی ہے۔اس فرق کو ہر وقت مد نظر رکھنا چاہئے اور اسے مدنظر رکھتے ہوئے ہر بات کہنی چاہئے۔طریق کار کو بدلنے کی ضرورت تیسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بجٹ کے متعلق سوال پیدا ہوتا ہے کہ کس طرح پورا کیا جائے۔میں نے پہلے بھی یہ بات بیان کی ہے اور اب پھر بیان کرتا ہوں۔ایک طرف یہ بات ضروری ہے کہ آمد و خرچ برابر رکھیں اور اگر اسے برابر نہیں رکھ سکتے تو لازماً دو باتوں میں سے ایک طریق اختیار کرنا پڑے گا۔یا تو یہ کہ خرچ میں کمی کریں یا یہ کہ طریق کار کو بدل دیں۔یہ کہ آمد خرچ کے برابر نہ کر سکیں اور خرچ بڑھاتے جائیں یہ بے وقوفی ہو گی۔دوسری طرف یہ بھی بے وقوفی ہوگی کہ آمد خرچ کے برابر نہ ہو تو ایک ہی طرف جائیں کہ خرچ کم کر دیں۔کیا پتہ ہے کہ خدا تعالیٰ اس کام سے جسے خرچ کم کرنے کی خاطر بند کر دیا جائے عظیم الشان نتیجہ پیدا کرنا چاہتا ہو۔اس حالت میں یہی طریق اختیار کرنا چاہئے کہ اس بجٹ کے طریق کو بدل دیں جس سے آمد خرچ کے برابر نہیں ہوتی۔بجٹ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت نہ ہوتا تھا، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے وقت نہ ہوتا تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے وقت نہ ہوتا تھا، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کے وقت بھی نہ ہوتا تھا اُس وقت صرف یہ سوال ہوتا تھا کہ فلاں کام کرنا ہے اس کے لئے تیاری کرو۔ہمارا بھی یہی طریق ہونا چاہئے کہ جو کام کرنا ہو اُس کے لئے تیاری کریں۔پس ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ جو کام ہم کر رہے ہیں وہ ضروری ہیں یا نہیں؟ اگر ضروری ہیں تو پھر ان کو کرنے کے لئے طریق کار کو بدل دینا چاہئے اور اگر کوئی کام ضروری نہیں تو بجٹ میں گنجائش ہو تو بھی نہیں کرنا چاہئے۔بہر حال ضروری کام کے وقت یہ غور کرنا ہو گا کہ اُسے کس طرح سرانجام دیا جائے۔مثلاً یہاں بعض کا رکن تنخواہ اڑھائی سو ، دو سو ، ڈیڑھ سو تک لیتے ہیں۔ہم جماعت کے لوگوں سے اپیل کریں کہ آؤ تم اس سے کم تنخواہ پر یہ کام کرو۔یا جو کام کرنے والے ہیں اُن سے کہیں کہ تم کم تنخواہ پر کام کرو۔یا مثلاً تبلیغ کا صیغہ ہے، اس کے متعلق غور کر لیا جائے کہ فلاں فلاں کام جو ہو رہا ہے وہ ضروری ہے یا نہیں؟ پس بجٹ کے متعلق غور کرتے وقت