خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 579
خطابات شوری جلد اوّل ۵۷۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء بولتا۔پھر اُن کا قرآن اور ہے اور ہمارا اور۔وہ سمجھتے ہیں قرآن کی کئی آیات منسوخ ہیں مگر ہم اس کا ایک شوشہ بھی منسوخ نہیں مانتے۔اُن کی سمجھ میں جو آیت نہ آئی اسے منسوخ قرار دے دیا۔اس سے بڑھ کر قرآن پر اور کیا ظلم ہو سکتا ہے۔پھر وہ مسلمان ہی ہیں جو کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی پھوپھی زاد بہن کو ننگے نہاتے دیکھا اور اُس پر عاشق ہو گئے۔نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ) پس کوئی ایک بات نہیں جس میں اُن سے ہمیں اختلاف ہے بلکہ انہوں نے اسلام کا نقشہ ہی اس طرح بدل دیا ہے کہ وہ پہچانا نہیں جاتا۔پھر اُن کے دلوں کا نقشہ بدل گیا ہے۔اُن کے دلوں سے خدا تعالیٰ کی محبت مٹ چکی ہے۔تو فرما یا اسلام کی ہر چیز کو انہوں نے بدل دیا اس لئے خدا تعالیٰ نے مجھے بھیجا۔پھر آپ کا کشف کہ نیا آسمان اور نئی زمین بنائیں سے یہ نہیں کہا کہ چھت کی کڑیوں اور دیوار کے پلستر کو ٹھیک کریں بلکہ یہ کہا کہ نیا آسمان اور نئی زمین بنا ئیں۔اگر عوام کی حالت کو دکھانا تھا تو یہ بتایا جاتا کہ چاند خراب ہو گیا ہے اس کو درست کریں۔سورج خراب ہو گیا ہے اسے درست کریں مگر اس کی بجائے یہ دکھایا گیا کہ نیا آسمان اور نئی زمین بنائیں۔گویا دنیا کلی طور پر بگڑ چکی تھی اور اس کی اصلاح کی ضرورت تھی اور یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خصوصیت نہیں ہر نبی اُسی وقت آتا ہے جب زمین و آسمان بگڑ چکا ہو یا مکمل نہ ہو اُس کو مکمل کرنے کے لئے آئے۔بہر حال نبی کی آمد زمین و آسمان کی اصلاح کے لئے ہوگی۔احمدی اور غیر احمدی میں فرق پس جو تغیر ہم نے کرنا ہے وہ دُنیا سے نرالا ہے مگر بہت دوست مشوروں میں اُن لوگوں کی نقل کرتے ہیں جنہیں ہم سے کوئی نسبت ہی نہیں ہے اور اُن کی نقل سامنے رکھ کر کہتے ہیں ہمیں بھی یوں کرنا چاہئے۔یاد رکھنا چاہئے کہ ہر چیز اپنے ساتھ ماحول رکھتی ہے اور اُسے اگر ماحول سے علیحدہ کر دیا جائے تو اس کا اثر کچھ نہیں رہتا۔اصل چیز ماحول ہی ہوتا ہے۔اگر کوئی کہے کہ ایک انگریز اور ایک ہندوستانی میں کیا فرق ہے تو شاید کوئی بعض باتیں بتا دے مگر وہ کئی اوروں میں ہوں گی۔لیکن اگر کوئی انگریزوں کی سوسائٹی میں جائے تو چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی اُسے فرق نظر آئے گا۔پھر ہندوستان ہی میں رہنے والے پنجابی اور بنگالی میں چھوٹی