خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 578
خطابات شوری جلد اوّل ۵۷۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء آپ اُس کی طرف متوجہ رہتے اور اُس کی بات غور سے سنتے۔پس ہر بات کو غور سے سُننا چاہئے ورنہ شوریٰ کی کیا ضرورت ہے؟ شوری کی ضرورت اس طرح خدا تعالیٰ یہ بتانا چاہتا ہے کہ اُس کی رحمت مختلف نالیوں کے ذریعہ جاری ہوتی ہے۔کوئی بڑا آدمی ہوتا ہے اور کوئی چھوٹا جس کے ذریعہ خدا تعالیٰ رحمت نازل کرتا ہے۔پس ہر ایک کی بات پورے غور اور توجہ سے سننی چاہئے۔ہم نہیں جانتے اس وقت خدا تعالیٰ کے نزدیک کون بڑا ہے اور کون چھوٹا۔جس کے ذریعہ خدا تعالیٰ ہدایت پہنچا رہا ہو ، حقیقت میں وہی بڑا ہے۔زمین و آسمان کی اصلاح کی ضرورت پھر یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ ہم اللہ تعالی کی جماعت ہیں اور اللہ تعالیٰ کی جماعتیں فتنہ وفساد کے وقت پیدا ہوا کرتی ہیں، جب دُنیا بہت بڑا تغیر اور بہت بڑی تبدیلی چاہتی ہے تب نبی آیا کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک واقعہ ہے جس کا ذکر ڈائری میں آتا ہے۔میں اُس وقت وہاں موجود تھا جب وہ واقعہ ہوا۔مدرسہ احمدیہ کے متعلق گفتگو ہو رہی تھی کہ اس کی ضرورت ہے یا نہیں۔ایک صاحب تحصیلدار تھے۔اُنہوں نے کہا ہمیں ایسے مدرسہ کی کیا ضرورت ہے ہمارا اور دوسرے مسلمانوں کا اتنا ہی اختلاف ہے کہ ہم کہتے ہیں حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے اور وہ کہتے ہیں زندہ ہیں۔دوسرے مسائل میں کوئی اختلاف نہیں وہ مسائل ہم دوسرے مولویوں سے معلوم کر سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ خود مجلس میں تشریف لے آئے اور آپ نے تقریر کی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ میں یہ بات سُن کر حیران ہو گیا کہ ہمارا اور دوسرے لوگوں کا اختلاف صرف حیات و وفات عیسی علیہ السلام کے متعلق ہے؟ اگر یہی اختلاف ہوتا تو اس کے لئے قطعاً مأمور کی ضرورت نہ تھی۔حضرت عیسی کی وفات ماننے والے تو کئی لوگ تھے۔سرسید احمد خان بھی حضرت عیسی کی وفات مانتا تھا۔اسی قسم کے اور بھی لوگ تھے اس کے لئے مامور کے آنے کی ضرورت نہ تھی۔فرمایا یہ غلط ہے۔اصل بات یہ ہے ہمارا خدا اور ہے اور اُن کا خدا اور۔اُن میں خدا تعالیٰ کے متعلق بیسیوں غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ الہام ختم ہو چکا اور خدا اب اپنے کسی بندہ سے نہیں