خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 571
خطابات شوری جلد اول ۵۷۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء وہ روحانیت جو کسی وقت موجود تھی اور جس کا ذکر مذہبی کتابوں میں گزشتہ زمانہ کے متعلق پایا جاتا ہے دنیا میں قائم کی جاسکتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ہاتھ پر ایمان لانے والے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی جماعت با وجود ابتدائی کمزوریوں کے، حضرت مسیح علیہ السلام اور ان کے ساتھی باوجود ابتدائی ٹھوکروں کے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ باوجود منافق گروہ کی موجودگی کے ایسا دلکش نقشہ اور ایسا خوبصورت منظر آنکھوں کے سامنے پیش کرتے ہیں کہ جو ہر قسم کی مایوسی کو امید سے بدل دیتا ہے، انسان کے افسردہ چہرہ پر شگفتگی کے آثار پیدا کر دیتا ہے۔ لیکن جب اس کے مقابلہ میں دُنیا کی موجودہ رو کو دیکھتے ہیں ، موجودہ حالت پر نظر کرتے ہیں، جب موجودہ حالت ہی نہیں بلکہ یہ خیال کرتے ہیں کہ اس حالت کے آئندہ نتائج کیا نکلیں گے، جب دیکھتے ہیں کہ ایسا بیج بویا جا رہا ہے جو تباہی و بربادی کے پھل لانے والا ہے اور جب یہ دیکھتے ہیں کہ تقوی کا بیج بونے کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے تو آنکھوں کے سامنے تاریکی اور اندھیرا آ جاتا ہے۔ اس وقت اگر کوئی چیز امید دلانے والی اور ان خطرات کا مقابلہ امید دلانے والی چیز کرنے پر آمادہ کرنے والی ہے تو وہی شیریں میٹھی اور دلنواز آواز ہے جو غار حرا میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سُنائی دی اور موجودہ زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر نازل ہوئی اور وہ یہ ہے کہ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا ہاں وہی آواز، ہمارے پیدا کرنے والے کی سُریلی آواز جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ رات کو جب میں سرہانے پر سر رکھتا ہوں تو آنی شروع ہوتی ہے اور اُٹھنے تک آتی رہتی ہے کہ اِنِّی مَعَ الرَّسُولِ أَقُومُ وَالُوْمُ مَنْ يَلُومُ یی ایک چیز ہے جو ہمیں اُمید دلاتی ہے، جو ہمارا حوصلہ بڑھاتی ہے۔ اگر اس چیز کو نظر انداز کر دیا جائے تو سوائے تاریکی کے ، سوائے مایوسی کے اور سوائے نا اُمیدی کے کچھ نظر نہیں آتا۔ دو قسم میں ہیں جو باتی کے لوگ بے شک اس آواز سے باہر بھی اُمیدیں ہیں مگر وہ دوقسم کی ہیں ۔ یا تو ان لوگوں کی اُمیدیں بلند ہیں جن میں عقل باقی نہیں رہی ، وہ مجنون کی طرح ہیں۔ ایک پاگل کہتا ہے میں دُنیا کو اُلٹ دوں گا حالانکہ وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ ایسے مجانین کے دعاوی یہ ثابت نہیں کرتے کہ ان کی اُمید قائم ہے بلکہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ