خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 558
خطابات شوریٰ جلد اوّل مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء تخفیف کن اصولوں پر ہونی چاہئے بعض نے کہا ہے چونکہ ہم میں اخراجات پورا کرنے کی طاقت نہیں ہے اس لئے فلاں فلاں رقم کاٹ دو۔کاٹنے کے لئے تین باتیں ہو سکتی ہیں۔اوّل یہ کہ اسراف ہو۔اگر دس کروڑ روپیہ بھی جمع کر سکتے ہیں لیکن ایک پیسہ بھی اسراف کے طور پر خرچ میں رکھا گیا ہے تو اس ایک پیسہ کو نہ کا ثنا خدا تعالیٰ کے نزدیک مجرم بنا ہے۔دوسری بات یہ ہو سکتی ہے کہ اسراف تو نہیں، اس خرچ کی ضرورت ہے مگر وہ ضرورت خاص اہمیت نہیں رکھتی۔اگر اُسے پورا نہ کیا جائے تو سلسلہ کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچتا۔ایسی رقوم کو جب مشکلات در پیش ہوں، کاٹ سکتے ہیں۔تیسرے ایسی ضرورتیں ہیں کہ جن کا پورا کرنا دین کا کام چلانے کے لئے ضروری ہے اور جب تک فاقوں کی نوبت نہ آ جائے ، ہم ان ضرورتوں کو کاٹ نہیں سکتے۔یہ تین قسم کی کٹوتیاں ہیں یعنی : - اسراف ہو۔اس صورت میں اگر ایک پیسہ بھی ایسا خرچ رکھا گیا ہو تو اسے کاٹ دینا چاہئے۔(۲) ایسی صورت ہو کہ ضرورت کو ملتوی کیا جا سکتا ہو۔(۳) ایسی صورت ہو کہ ضرورت کو روکا نہیں جا سکتا جیسا کہ تبلیغ اسلام ہے۔ایسی ضرورتوں کو ضروری قرار دینا ہو گا اور ان کے متعلق یہ لفظ نہیں کہنا چاہئے کہ ہم ان کو کاٹتے ہیں بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ ان کو پورا کرنے کی کوشش کرتے کرتے ہم خود کٹ جائیں گے۔اسی صورت میں ہم بری الذمہ ہو سکتے ہیں ورنہ جب تک ہمارے جسم میں سانس ہے اُس وقت تک ان ضرورتوں کو پورا کرنے میں ہم بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ان تینوں صورتوں کو مدنظر رکھے بغیر کٹوتی کا کوئی مشورہ دینا بالکل باطل ہے۔وہ جھنڈا جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کھڑا کیا ہے اس کے متعلق کوئی کٹوتی نہیں بلکہ اُسے قائم رکھنے کے لئے ہمارے حلقوں کا کٹ جانا معمولی بات ہے۔ہر ممکن قربانی کرنے کیلئے تیار باقی رہا یہ کہتا کہ لوگ اس بات کو برداشت نہیں کر رہنے والوں کو کیا کرنا چاہئے سکتے لیکن جب ایک طرف خدا تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ اسے برداشت کرنا چاہئے اور دوسری طرف ایسے