خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 557 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 557

خطابات شوری جلد اوّل ۵۵۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء میں نہ جانے والے منافق نہیں بلکہ مومن سمجھے جائیں گے مگر خدا تعالیٰ نے انہیں منافق قرار دیا۔غرض خدا تعالیٰ نے بے شک یہ فرمایا ہے کہ اپنی طاقت کا خیال رکھو مگر اُسی حد کے اندر جو خدا نے مقرر کی ہے نہ وہ جو تمہارے نفسوں کی موٹائی نے قرار دی ہے۔بے شک بجٹ طاقت کے مطابق ہونا چاہئے مگر کون سی طاقت؟ کیا آپ لوگ خدا تعالیٰ کو یہ کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ ہم میں سے پچاس فیصدی چندہ نہیں دیتے تھے، اس لئے ہم نے آمد اور خرچ میں کمی کر دی؟ خدا تعالیٰ کہے گا کیا تم نے چندہ نہ دینے والوں سے چندہ لینے کی کوشش کی اور اس کے لئے اپنی انتہائی کوشش صرف کر دی؟ اس کا آپ لوگوں کے پاس کیا جواب ہے؟ کیا کوئی جماعت ایسی ہے جو یہ بتائے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو یہ لکھا ہے کہ جو شخص تین ماہ تک چندہ نہیں دیتا وہ میری جماعت سے خارج ہے۔اس کے مطابق اس نے چندہ نہ دینے والوں کا معاملہ پیش کیا؟ باتیں کرنی آسان ہیں لیکن کام کرنا مشکل ہے۔آپ لوگوں نے طاقت استعمال ہی نہیں کی پھر طاقت سے کام کس طرح بڑھ گیا۔یہ ایک چیز تھی ہمارے پاس جس سے کام لیا جا سکتا تھا مگر اس سے کام نہیں لیا گیا۔ایسے نادہند جماعتوں میں موجود ہیں جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جماعت سے خارج قرار دے چکے ہیں لیکن تم لوگ اُن کے ڈر کی وجہ سے، اُن کے لحاظ کے باعث اور اُن کی آنکھوں میں آنکھیں ملانے کی شرم سے اُنہیں اپنے ساتھ رکھتے ہو اور پھر کہتے ہو چندہ وصول کرنے میں ہم نے پوری کوشش کر لی۔اس بارے میں تم غلطی پر ہو اور یقینا غلطی پر ہو۔یہ کوشش باقی ہے اُن نادہندوں کے پاس جاؤ جو احمدی کہلا کر چندہ نہیں دیتے اور انہیں بتاؤ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ حکم ہے۔پھر بھی اگر وہ کہیں کہ نہیں دیتے تو اُن کا معاملہ میرے سامنے پیش کرو۔اس کے بعد خدا تعالیٰ جو عَلامُ الْغُيُوبِ ہے اس کے سامنے تم جواب دے سکتے ہو کہ تم نے اپنی طرف سے کوشش کر لی۔تم انسانوں کو دھوکا دے سکتے ہومگر خدا تعالیٰ کو نہیں اور ہمارا معاملہ انسانوں سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ سے ہے۔بے شک طاقت اور ہمت سے زائد بجٹ نہ ہو۔اگر ہم طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں تو یہ خدا تعالیٰ کے منشاء کے خلاف ہے؟ مگر سوال یہ ہے کہ طاقت کے معنے کیا ہیں؟ طاقت کے معنے خدا تعالیٰ کے نزدیک یہ نہیں کہ منہ سے کہہ دیا ہم یہ کام نہیں کر سکتے اور ہم سے چندہ وصول نہیں ہوسکتا۔