خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 556
خطابات شوری جلد اوّل مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء نہیں کیا جا سکتا۔میں چاہتا ہوں کہ آپ لوگوں کو بھی بری کروں اور مرکز میں کام کرنے والے عملہ کو بھی بری ٹھہراؤں مگر کوئی وجہ اس کے لئے معلوم نہیں ہوتی آپ لوگوں کا پورا زور اس بات کے لئے صرف ہو رہا ہے کہ خرچ کم کیا جائے اور کام کرنے والوں کی ساری کوشش یہ ہے کہ آمد کم دکھائی جائے اس طرح دونوں کی غرض اپنے اپنے لئے کریڈٹ حاصل کرنا ہے اور اصل میں یہی مرض ہے جس کے علاج کی ضرورت ہے۔ہمیں کن اصطلاحات میں باتیں کرنی چاہئیں یہ کہنا کہ اخراجات زیادہ ہیں، جس قدر آمدنی ہو سکتی ہے اسی میں پورے کرنے چاہئیں۔یہ ان قوموں کا اصول ہے جو یہ کہتی ہیں کہ ہمیں زندہ رہنا ہے زندہ رہنے کی خاطر۔لیکن جس قوم کا یہ دعوی ہو کہ اُسے مرنا ہے دنیا کو زندگی دینے کے لئے، اُس کی طرف سے یہ نہیں کہا جا سکتا۔اُس کی طرف سے صرف یہ سوال ہوسکتا ہے کہ دُنیا کو زندہ رکھنے کے لئے فلاں کام کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں ؟ اگر ضرورت ہے تو وہ قوم یہ نہیں کہہ سکتی کہ اس کام کو کرتے ہوئے چونکہ ہمیں مرنا پڑتا ہے اس لئے یہ کام نہیں ہوسکتا۔پس دُنیا کی کونسلوں میں آمد و خرچ کے متعلق جو دلائل دیئے جاتے ہیں وہ یہاں نہیں چل سکتے۔اُن کی حکومتوں کے قیام کا باعث اور ہے اور ہمارے سلسلہ کے قیام کا باعث اور۔ہمیں اُن اصطلاحات میں باتیں کرنی چاہئیں جن کو قائم کرنے کے لئے ہم کھڑے ہوئے ہیں۔طاقت کے مطابق کام کرنے کا مطلب بے شک خدا تعالیٰ نے یہ کہا ہے کہ اپنی طاقت کے مطابق کام کرو مگر طاقت کی تعریف وہ ہے جو خدا تعالیٰ نے کی ہے نہ کہ وہ جو ہم قربانی سے بچنے کے لئے خود کریں۔بیشک خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ لا یکلف الله نفسا لا وُسْعَهَا ۳ مگر اس کی تعریف کیا کی ہے؟ خدا تعالیٰ یہ کہتا ہوا مدینہ کے چند بے سروسامان انسانوں کو بدر کے میدان میں لے جاتا ہے جہاں دشمن کی طاقت اُن کے مقابلہ میں بہت زیادہ تھی، اتنی زیادہ کہ مسلمانوں کی طاقت کو اس کے مقابلہ میں کوئی نسبت بھی نہ تھی۔اُس وقت جنہوں نے کہا کہ اس جنگ میں شرکت تو صریحاً موت ہے اُن کو منافق قرار دیا گیا اور اسلام کے دشمن ٹھہرایا گیا۔پس اگر لا یکلف اللہ کے یہ معنی ہیں کہ خدا کی راہ میں مرنے سے بچو تو جنگ بدر