خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 555
خطابات شوری جلد اوّل مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء رہتے ہیں۔اگر اُن میں سے بعض کے گریڈ ختم ہو چکے ہیں تو یہاں بھی ایسے لوگ ہیں جن کے گریڈ ختم ہو چکے ہیں۔پھر ان باتوں کا اثر آمدنی پر کیوں نہیں پڑتا۔اِن امور کو مدنظر رکھتے ہوئے میں سمجھتا ہوں آمدنی کے انتظامات میں نقص ہے۔پس نظارت بیت المال بجٹ میں آمد کی کمی دکھا کر اپنے فرض سے سبک دوش نہیں ہوسکتی۔افسر بیت المال کا رجحان مالی صیغہ کے انچارج کا چونکہ یہ فرض ہوتا ہے کہ جو آمد بجٹ میں ظاہر کی جائے اُسے پورا کرے اس لئے طبعاً بیت المال کے افسر کا رُجحان آمد کا اندازہ کم دکھانے کی طرف ہوگا تا کہ آمد پوری نہ ہو تو اُس پر الزام نہ آئے۔حکومت کے افسر بے شک اس نقص سے بچے ہوتے ہیں کیونکہ وہاں زور سے روپیہ وصول کیا جاسکتا ہے لیکن ہمارا سیکرٹری مال جانتا ہے کہ اُسے پیسہ پیسہ منتیں کر کر کے وصول کرنا ہے اس لئے اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ تشخیص شدہ آمدنی کم کر کے دکھاؤں۔خرچ کم کرنے پر زور ادھر تو ناظر بیت المال کا یہ میلان ہوتا ہے کہ آمدنی کو کم کر کے دکھایا جائے تا کہ وصول کرنے میں آسانی رہے اور یہ دکھایا جا سکے کہ جس قدر رقوم وصول کرنے کا اندازہ تھا وہ وصول کر لی گئی ہے۔اُدھر دینے والے بھی ہر دفعہ بجٹ میں درج شدہ خرچ کے متعلق یہ بحث کرتے ہیں کہ اسے کم کیا جائے تا کہ انہیں کم دینا پڑے۔ان کی طرف سے یہ نہیں کہا جاتا کہ آمدنی بڑھانے پر پورا زور صرف کیا جائے نہ آمدنی بڑھانے کی تجاویز پر عمل کرنے کے لئے زور دیا جاتا ہے۔ہاں اگر زور دیا جاتا ہے تو اس بات پر کہ خرچ کم کرو۔ناظر بیت المال کی کوشش تو یہ ہوتی ہے کہ آمد کم دکھائے اس غذر کی بناء پر کہ تشخیص کے مطابق آمد نہیں ہوتی۔اُدھر دینے والوں کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ خرچ کو کم کرتے جائیں تا کہ انہیں چندہ کم دینا پڑے۔اپنے لئے کریڈٹ حاصل کرنا اس طرح دونوں اپنے اپنے بچاؤ کی کوشش کر رہے ہیں اور اس طرح اسلام کی جو روح ہے اسے بالکل نظر انداز کیا جا رہا ہے اور ان بنچوں سے بھی اور اُن بنچوں سے بھی دین کی ضرورت اور اسلام کی خدمت کے لئے آواز نہیں اُٹھائی جاتی۔یہ یقینی اور واقعی بات ہے جس سے انکار