خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 550
خطابات شوری جلد اوّل مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء دس ہزار کی تعداد میں ماہوار شائع کیا جائے جس میں سے ایک ہزار ڈاک کے ذریعہ تعلیم یافتہ طبقہ میں تقسیم کیا جائے اور باقی 9 ہزار منظم طور پر جماعتوں کے ذریعہ تقسیم کیا جائے۔اس طرح تقسیم نہ ہو کہ انہی اشتہاروں میں پُڑیاں بندھ بندھ کر آ جائیں۔بیرونِ ہند کے لئے ۸ صفحہ کا انگریزی ٹریکٹ دو ہزار کی تعداد میں سہ ماہی شائع کیا جائے۔اس کے لئے آٹھ سو روپیہ بجٹ دعوۃ و تبلیغ سے کم کر دیا جائے۔میرے نزدیک یہ آسان کام نہیں ہے بلکہ سزا کے طور پر ہے۔چھ ماہ ہوئے۔ناظر صاحب دعوۃ و تبلیغ کی تجویز تھی کہ سال میں تین مبلغین کا اضافہ کم ہے۔مبلغوں کی تنخواہ کم کر دی جائے اور تین کی بجائے پانچ رکھنے کی اجازت دی جائے مگر اب وہ مبلغوں میں کمی کرنا چاہتے تھے۔بہر حال ۱۲سو روپیہ جماعتیں اور مختلف افراد جمع کر دیں اور اس کا بیسواں حصہ ساٹھ روپیہ مجھ سے لے لیا جائے ، میں پانچ روپے ماہوار دے دیا کروں گا۔نظارت دعوۃ و تبلیغ یہ کام جاری کرے، اسے میں منظور کرتا ہوں۔باقی یہ کہ دو آدمیوں کو اس کام کے لئے اس طرف منتقل کیا جائے اس کا فیصلہ میں اس وقت نہیں کر سکتا۔میں ضرورت اور موقع کو دیکھوں گا۔ناظر صاحب دعوة و تبلیغ اس کے متعلق مجھ سے مشورہ کر سکتے ہیں۔میں اس کے متعلق بعد میں فیصلہ کروں گا۔“ تیسرا دن تجویز بابت تخفیف بحیث مجلس مشاورت کے دوسرے دن سب کمیٹی بیٹ المال نے مشکل حالات کی وجہ سے بجٹ میں تخفیف کی تجویز پیش کی۔اس بارہ میں بعض ممبران نے اظہارِ خیال کیا تو اجلاس کا وقت ختم ہو گیا۔چنانچہ مشاورت کے تیسرے دن بھی اس پر بعض نمائندگان نے بحث میں حصہ لیا۔جب رائے لی گئی تو اکثریت تخفیف کے خلاف تھی۔اس موقع پر حضور نے بجٹ پورا کرنے کے سلسلہ میں احباب کو ہدایات دیتے ہوئے فرمایا : - میں انہی اصحاب کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں جن کی کثرت ہے اور جو معقول تجویز پیش کر رہے ہیں۔میں نے اصولی طور پر اس بات کے سمجھنے کی کوشش کی ہے مگر میں یہ قطعاً