خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 547 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 547

خطابات شوری جلد اول ۵۴۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء نے تیار نہیں کیا ۔ ٹریکٹ لکھ لینا اور کتابیں شائع کر لینا اور بات ہے مگر وہ بھی درست نہیں۔ اگر ان کی کتابیں ایسی ہیں جو دین کی بہت بڑی خدمت ہے تو چاہئے تھا کہ ان کی جماعت بڑھتی نہ کہ میری ۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ دُنیا میں تہلکہ تو اُن کی تصانیف سے پیدا ہو گیا ہے اور جماعت ہماری بڑھ رہی ہے۔ ہم نے دین کی خدمت کرنے والے آدمی پیدا کئے ہیں اور اس سرعت سے پیدا کئے ہیں کہ دنیا کی کوئی جماعت اس کی مثال نہیں پیش کر سکتی ۔ مولوی جلال الدین صاحب شمس ، مولوی غلام احمد صاحب مجاہد ۔ مولوی اللہ دتہ صاحب یا اور جو مبلغ نکل رہے رہے ہیں سوائے چند چندا ایک پرانے آدمیوں مولوی غلام رسول صاحب را جیکی اور مولوی ابراہیم صاحب بقا پوری کے باقی سب کے سب میرے زمانہ میں تیار ہوئے ہیں ۔ اس کے مقابلہ میں مدرسہ احمدیہ پر جو کچھ خرچ ہوا اُسے سامنے رکھ کر دیکھو ۔ نتیجہ نکلا ہے یا نہیں؟ ان کے مقابلہ میں کون سے آدمی ہیں جو غیر مبائعین پیش کر سکتے ہیں۔ ابھی چودھری فقیر محمد صاحب نے بتایا ہے کہ ایک نوجوان مبلغ نے جو حال ہی میں تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد تبلیغ کے کام پر لگایا گیا ہے ان کے علاقہ میں خوب کام کیا۔ اسی طرح دہلی میں ایک نو جوان مبلغ نے کامیاب مباحثہ کیا۔ ایسے آدمیوں کا پیدا ہونا کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔ تمام ہندوستان میں ایسے لوگ نہیں پیدا ہو ر ہے۔ ندوہ بہت پرانی درسگاہ ہے وہ بھی ایسی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ باقی رہا کتب کا شائع کرنا، ان کا انکار کوئی نہیں کر سکتا مگر سوال یہ ہے کہ اب کتب کی اشاعت باتوں کی تشریح کرنا ہے ۔ مصالحہ تمام کا تمام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب میں موجود ہے۔ اگر ہم کوئی ایک کتاب بھی نہ لکھیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابیں دُنیا کی ہدایت کے لئے موجود ہیں اور ان کی موجودگی میں ہمیں کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم ناکام رہے لیکن اگر کام کرنے والے آدمی پیدا نہ ہوں تو پھر ہماری ناکامی میں کوئی شبہ نہ رہے گا۔ پس جس چیز کی دنیا کو ضرورت تھی وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتابوں میں جمع کر دی ہے، باقی وقتی ضرورتوں کے لئے اسی کو ہیر پھیر کر ہم لے آتے ہیں ۔ دنیا میں نیا میں اگر ایسے لوگ پیدا ہوتے رہتے جو دین کو صحیح طور پر لوگوں کے سامنے پیش کرتے اور ان کو گمراہی سے بچاتے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو وہ کتب لکھنے