خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 546 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 546

خطابات شوری جلد اوّل ۵۴۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء ضرورت ایک اہم سوال ہے جسے کسی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ہم نے مبلغین پیدا کرنے کا ایک سلسلہ جاری کیا ہوا ہے، مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ کی یہی غرض ہے۔ان کا سالانہ بجٹ ۲۴ ہزار کے قریب ہوتا ہے۔اِس قد ر سالانہ خرچ کرنے کے بعد اول تو کچھ طالب علم آخری منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی گر جاتے ہیں، کچھ چلے جاتے ہیں۔پہلی جماعت جس کے طالب علموں کی تعداد ساٹھ۔ستر کے قریب ہوتی ہے، آخری جماعت میں سات آٹھ رہ جاتے ہیں۔انہیں چار سال اور تعلیم دینے کے بعد جو نکلتے ہیں، اُن میں سے بعض کو ہم کہہ دیتے ہیں کہ ہم نہیں لے سکتے اور صرف تین کو لیتے ہیں۔اب اگر ان میں بھی کمی کر دی جائے تو پھر مبلغین میں اضافہ کا سلسلہ بند ہو جائے گا حالانکہ اس وقت کم از کم دوسو مبلغین کی ضرورت ہے۔اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے کم از کم پانچ مبلغین کا سالانہ اضافہ تو ہومگر مالی مجبوری کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ تین کو لیا جائے۔اگر اسی پر عمل کیا جائے تو دس سال کے عرصہ میں ۶۰ مبلغین کا اضافہ ہوگا۔بشرطیکہ مبلغین میں۔کوئی فوت نہ ہو۔اور جب متواتر کئی سال تک صرف تین کو لیں گے تو زیادہ طلباء مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ میں داخل نہ ہوں گے اور ممکن ہے کہ تین ہی داخل ہونے والے رہ جائیں اور اس طرح ساٹھ کی تعداد سے کبھی بڑھ نہ سکیں گے مگر جو حالت اور ضرورت جماعت کی ہے اس کے لحاظ سے صرف ساٹھ مبلغین کا ہونا کتنی خطرہ کی بات ہے۔اشتہار کے لئے اگر آج ہم ارادہ کریں تو لاکھوں لکھ سکتے ہیں مگر مبلغ کی ضرورت ہو تو اُسے ۱۳ سال میں جا کر تیار کر سکتے ہیں۔جنگی قومیں فیصلہ کیا کرتی ہیں کہ ایک جنگی جہاز پر روپیہ زیادہ خرچ کرو اور سپاہیوں پر کم۔کیونکہ ایک جہاز پانچ چھ سال میں تیار ہوسکتا ہے اور سپاہی چھ ماہ میں۔غرض جس چیز کے تیار کرنے میں زیادہ وقت لگتا ہے اُس کا مہیا کرنا ضروری ہوتا ہے۔اگر جماعت کی ضروریات ایسی ہوں کہ مبلغ رکھے جائیں تو اس کے لئے ۱۳ سال انتظار کرنے کی ضرورت ہو گی لیکن ٹریکٹ لکھنے کی ضرورت پیش آئے تو اس کے لئے ایک دن انتظار کرنے کی بھی ضرورت نہ ہو گی۔اِس میں اُن کا بھی جواب ہے جو یہ کہتے ہیں کہ مولوی محمد علی صاحب نے بڑا کام کیا ہے، اتنی کتا بیں شائع کر دی ہیں۔وہ کوئی ایک مبلغ ہی دکھا ئیں جو غیر مبائعین نے تیار کیا ہو۔اٹھارہ انیس سالہ جد وجہد میں ایک آدمی بھی اُنہوں