خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 545 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 545

خطابات شوری جلد اوّل ۵۴۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء میں اس کے متعلق کچھ نہیں کہتا۔اگر کسی دوسرے کی طرف سے یہ سوال پیش ہوتا کہ دعوۃ و تبلیغ کا ایک حصہ اشتہارات وغیرہ پر خرچ ہو تو کہا جاسکتا تھا کہ دعوۃ و تبلیغ نے اس ذریعہ سے چونکہ فرض ادا نہیں کیا اس لئے اس طرف توجہ دلائی گئی ہے مگر نظارت کا خود اس طرف توجہ دلا نا شبہات پیدا کرتا ہے اور مجھے یہ معمہ ابھی تک حل نہیں ہوا۔میرے لئے یہ عُقدهُ لَا يَنْحَلَّ ہے۔اس کا فیصلہ ساری باتوں کے سننے کے بعد کروں گا۔ہاں احباب میں سے جن کو۔عقدہ حل ہو گیا ہو وہ رائے ظاہر کر سکتے ہیں۔پس جو دوست اس بات کی تائید میں ہوں کہ ایسا ادارہ قائم کیا جائے وہ کھڑے ہو جائیں۔۱۸۷ را ئیں۔جو دوست اس بات کے خلاف ہیں۔خواہ اس وجہ سے کہ تفصیلات جوسُن چکے ہیں وہ مصر ہیں۔خواہ اس وجہ سے کہ ایسے ادارہ کی ضرورت نہیں ہے جبکہ پہلے ادارے موجود ہیں۔۶۳ را ئیں۔اگلا سوال پیش ہو، میں فیصلہ آخر میں دوں گا۔“ اس کے بعد مزید چند نمائندگان نے اپنی آراء پیش کیں۔چنانچہ رائے شماری کے بعد حضور نے فرمایا: - وو سب کمیٹی کی ساری تجاویز پیش ہو چکی ہیں۔میں نے کہا تھا کہ میں اپنی رائے آخر میں ظاہر کروں گا۔سب سے پہلے تو میں یہ بات بیان کرتا ہوں کہ اس قسم کی گفتگو میں اس بات کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ دو اچھی چیزوں میں موازنہ زمانہ اور حالات کے لحاظ سے ہونا چاہئے ورنہ ایک کو رڈ کرنا اور دوسری کو لینا بیہودگی ہوگی۔میں اس موازنہ کو نہیں سمجھ سکتا کہ امن کے لحاظ سے تلوار اچھی ہے یا قلم۔آرام کے لحاظ سے رات اچھی ہے یا دن۔موسم کے لحاظ سے سردی اچھی ہے یا گرمی۔یہ سب چیزیں اپنی اپنی جگہ ضروری ہیں۔پس یہ سوال کہ اشتہارات کے ذریعہ تبلیغ ہو یا مبلغین کے ذریعہ، یہ درست نہیں۔یہ دونوں باتیں ضروری ہیں۔سوال یہ ہے کہ ان کی آپس میں نسبت کیا قرار دی جائے یعنی کون سے کام پر زیادہ زور دے سکتے ہیں۔اس کے متعلق صاف فیصلہ موجود ہے اور یہ بھی طے شدہ امر ہے کہ جس بات کا بوضاحت فیصلہ ہو جائے اس کے متعلق ضمنی طور پر کوئی تجویز پیش کر کے اُسے منسوخ کرانا نا جائز ہے۔پہلے اُس فیصلہ کو منسوخ کرا کر پھر نئی تجویز پیش کرنی چاہئے۔، مبلغین کی