خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 539
خطابات شوری جلد اول ۵۳۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء ہیں کہ بعض رقوم جو بعض مدات کی ہیں عارضی طور پر لے لی جائیں اور اس طرح کام شروع کر دیا جائے مگر احباب کو چاہیئے جاتے ہی کوشش شروع کر دیں اور قیمت بھجوائیں تا کہ کام شروع ہو سکے۔ خیال یہی ہے کہ ساڑھے سات سے زیادہ قیمت نہ رکھی جائے ۔ احباب اس حساب سے روپیہ پیشگی وصول کر کے بھجوائیں ۔ ایک دوست کی تجویز ہے کہ جماعتوں کے جو نمائندے آئے ہوئے ہیں وہ اپنی اپنی جماعتوں کی طرف سے اعلان کر دیں کہ کتنی کتنی جلدوں کی قیمت وہ بھجوائیں گے۔ اگر اس وقت اس طرح کیا گیا تو وقت زیادہ صرف ہو جائے گا اس لئے چند دوست رات کو نمائندگان کے پاس جائیں اور اُن سے وعدہ لکھا لیں ۔ بیت المال والے یا دعوۃ و تبلیغ والے دونوں میں سے کوئی یہ انتظام کر سکتا ہے۔“ سب کمیٹی نظارت اعلیٰ کی رپورٹ میں قواعد وضوابط صوبجاتی انجمن ہائے احمد یہ کے سلسلہ میں قاعدہ نمبر ۴ یہ تھا کہ :- دو ہر صوبہ کی انجمن احمد یہ کے لئے ایک امیر کا ہونا ضروری ہوگا جس کو خلیفہ وقت مقرر کرے گا اور وہ خلیفہ وقت کا نمائندہ سمجھا جائے گا۔ اس کے متعلق چند ممبران کے اظہار رائے کے بعد حضور نے فرمایا :- امیر کے متعلق قاضی صاحب نے سوال کیا ہے ۔ امارت کی تشریح کرنا چونکہ میرا فرض ہے اس لئے میں بتاتا ہوں ۔ اصل بات یہ ہے جیسا کہ اسلامی طریق ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے۔ جہاں چند آدمی بھی ہوں حتی کہ دو ہوں وہاں بھی ایک امیر مقرر ہونا چاہئے ۔ اسی طرح ہر جگہ امیر کی ضرورت ہوتی ہے مگر ہر امیر دوسری حیثیت میں مامور ہو جاتا ہے۔ خلیفہ امیر ہے لیکن نبی کے مقابلہ میں مامور ہے ۔ رسول آمر ہے لیکن خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں مامور ہے ۔ اسی طرح امیر نسبت کے لحاظ سے ہوتا ہے۔ جو اختیارات اُسے حاصل ہوں ان میں وہ آمر ہے لیکن جب دوسرے امیر کو اس سے زیادہ اختیارات دیئے جاتے ہیں تو وہ اس کے ماتحت ہو جائے گا۔ امیر کے لئے یہ ضروری ہے کہ