خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 536
خطابات شوری جلد اوّل ۵۳۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء بیٹھتے جس سے کہ بیٹھنا چاہئے۔ہم یہاں اللہ تعالیٰ کے نائب اور خلیفہ بن کر بیٹھے ہیں۔ملائکہ اللہ کا زمین پر نمونہ بن کر بیٹھے ہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ پوری توجہ اور غور سے باتیں سنیں اور ہر بات کی طرف متوجہ رہیں ورنہ لوگ ہم پر ہنسی کریں گے۔یہ نفسی ان کے لئے بھی مضر ہے مگر ہمارے مقام کے لحاظ سے ہمارے لئے بھی ناموزوں ہے۔پھر وقت بھی زیادہ صرف ہو جاتا ہے اور کام کم ہوتا ہے اس وجہ سے پروگرام یا تو جلدی جلدی ختم کرنا پڑتا ہے یا باقی رہ جاتا ہے۔تقویٰ کو مد نظر رکھا جائے یہ باتیں جو بیان کی گئی ہیں ان کی طرف پوری طرح خیال رکھنا چاہئے اور ان کے مطابق کام ہونا چاہئے۔باقی انسان غلطی کر سکتا ہے اور کرتا ہے، نادانی اور نادانستگی سے اللہ تعالیٰ ہی بچا سکتا ہے اور دانستہ ٹھوکر سے جو زنگ لگتا ہے اُسے خدا تعالیٰ ہی دور کر سکتا ہے نا دانستہ ٹھوکر سے خدا ہی بچا سکتا ہے۔پس تقویٰ کو مدنظر رکھ کر رائے دینی چاہئے اور خدا تعالیٰ پر تو کل ہونا چاہئے۔رائے پیش کرنے کا طریق ایک بات یہ مدنظر رکھنی چاہئے کہ آپ صاحبان اپنی جماعتوں کے نمائندے ہیں اور اس لحاظ سے امید کی جاتی ہے کہ جو امور ایجنڈا میں لکھے گئے ہیں ان کے متعلق آپ نے اپنی جماعتوں سے مشورہ کیا ہوگا۔اگر نمائندہ کی رائے اور جماعت کی رائے یا جماعت کی کثرت کی رائے ایک ہو تو اسے پیش کریں اور اگر جماعت نے کوئی رائے نہ دی ہو تو اپنی رائے پیش کریں لیکن اگر ان کا مشورہ جماعت کی رائے کے خلاف ہو یعنی ان کی رائے اور ہو اور جماعت کی اور تو جماعت کی رائے بھی پیش کریں کیونکہ وہ جماعت کی طرف سے امین ہیں۔“ دوسرا دن مجلس مشاورت کے دوسرے دن ۱۵۔اپریل ۱۹۳۳ء کو تلاوت قرآن مجید اور دُعا کے بعد حضور نے احباب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : - پیشتر اس کے کہ مجلس مشاورت کی باقاعدہ کارروائی شروع ہوا اور جو سب کمیٹیاں کل مقرر کی گئی تھیں وہ اپنی کا رروائی شروع کریں اور اس کے متعلق احباب سے مشورہ لیا