خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 535
خطابات شوری جلد اوّل ۵۳۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء رہی ہو تو وہ صحیح بات پیش کر دیں۔کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ کوئی صاحب ایک بات بیان کرتے ہیں لیکن اس کے متعلق انہیں غلط فہمی ہوتی ہے اور پھر اس پر بات لمبی ہوتی چلی جاتی ہے مگر متعلقہ ناظر اس کی اصلاح نہیں کرتا ، ایسا نہیں ہونا چاہئے۔دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دوست جب کوئی بات پیش کرنا چاہیں تو آپس میں خطاب نہ کریں۔یہ بات دینی اور دنیوی دونوں لحاظ سے ناجائز ہے۔اس مجلس مشاورت کا مطلب یہ ہے کہ خلیفہ آپ صاحبان سے مشورہ لے رہا ہے اس لئے بات کرتے وقت مخاطب خلیفہ ہی ہونا چاہئے۔یہ معمولی بات نہیں اس کی وجہ سے انسان کئی قسم کی ٹھوکروں سے بچ جاتا ہے۔جب انسان کسی کو مد مقابل سمجھ کر کوئی بات کرتا ہے تو اُسے غصہ آ جاتا ہے لیکن جب مخاطب خلیفہ ہوگا تو پھر غصہ نہیں آئے گا۔پس احباب کو یہ بات ہمیشہ مدنظر رکھنی چاہئے کہ ایسے مواقع پر خلیفہ کو مخاطب کر کے بات کی جائے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ بات کرتے وقت خلیفہ کا لفظ بولا جائے بلکہ یہ ہے کہ گفتگو کا رُخ اس کی طرف ہو۔پھر یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ گفتگو مختصر اور بادلائل کی جائے۔بعض لوگ تقریر کرتے وقت ایسی تفاصیل میں پڑ جاتے ہیں جو اصل بات سے دُور ہوتی ہیں۔چونکہ وقت کم ہوتا ہے اور قابل مشورہ معاملات زیادہ ، اس لئے مختصر بات کرنی چاہئے۔ایک بات کو دہرایا نہ جائے ایک اور بات جو گزشتہ اجلاسوں کی تربیت کے سبب سے کم تو ہو رہی ہے لیکن چونکہ ہر سال نئے نمائندے بھی آتے ہیں، اس لئے کلی طور پر بند نہیں ہوئی اور وہ یہ ہے کہ ایک ہی بات کو دُہرایا جاتا ہے۔یہاں جو دوست گفتگو کرتے ہیں وہ ووٹ دینے کے لئے نہیں بلکہ دلائل بیان کرنے کے لئے کرتے ہیں اس لئے نئی دلیل بیان کرنی چاہئے اور بیان شدہ دلیل کو دُہرانا نہیں چاہئے۔ووٹ اس وقت ہوتا ہے جب کھڑے ہونے کے لئے کہا جاتا ہے۔علاوہ اس کے کہ اس طرح وقت ضائع ہوتا ہے یہ بھی ہوتا ہے کہ بار بار کی تکرار عقل اور فکر پر بُرا اثر ڈالتی ہے۔کئی طبائع خیال کرتی ہوں گی اور کرتی ہیں کہ ایسے اصحاب مجلس میں سوتے رہتے ہیں اور جو کچھ بیان کیا جاتا ہے سنتے نہیں اس لئے وہی کہنا شروع کر دیتے ہیں جو دوسرے کہہ چکے ہوتے ہیں۔اسی طرح یہ اثر پیدا ہوتا ہے کہ ہم اس سنجیدگی سے اس مقام پر نہیں