خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 532 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 532

خطابات شوری جلد اوّل ۵۳۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء اعلیٰ صداقت ہے مگر جس دُنیا میں خدا تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا ہے اس میں اور حالات بھی پیش آتے ہیں اور ان کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ایک طبیب کہتا ہے کہ سب سے عمدہ غذائیت مثلاً گیہوں میں ہے لیکن چند دن کے پیدا شدہ بچہ کو اگر یہ غذا دیں تو وہ زندہ نہ رہ سکے گا۔اُس کو اِس سے ادنی غذائیت والی چیز یعنی دودھ جس میں گیہوں کی نسبت بہت کم غذائیت ہوتی ہے دیا جائے گا تب وہ بچے گا۔اسی طرح اگر سب کو دودھ دے دیں اس لئے کہ اس کا فضلہ کم ہوتا ہے تو بہت لوگ بیمار ہو جائیں گے کیونکہ فضلہ کا ہونا بھی صحت کے لئے ضروری ہوتا ہے۔اِس سے بُھوک کی حد بندی ہوتی ہے ورنہ انسان اندازہ سے بہت زیادہ کھا جائے۔یہی حال روحانیت کا ہوتا ہے۔اگر کہو خواہ کوئی کچھ کہے اُسے کچھ نہ کہو یا کوئی ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا اُس کی طرف پھیر دو تو یہ کامیاب تعلیم نہیں۔کامیاب تعلیم وہی ہو سکتی ہے جو دوسری چیزوں کے ساتھ مل کر مفید ثابت ہو۔مومنوں کی معیت اختیار کرنا خدا تعالیٰ فرماتا ہے تمہارا کام یہ ہے کہ مومنوں کی معیت اختیار کرو۔یہی وجہ ہے کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں حج کے دنوں میں چار رکعت پڑھیں جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعت پڑھی تھیں تو بعض صحابہ میں جوش پیدا ہوا لیکن سب نے آپ کے پیچھے چار رکعت ہی ادا کیں۔اس کے متعلق ایک صحابی عبداللہ بن مسعودؓ نے دوسرے صحابی حضرت عبدالرحمن سے پوچھا آپ کو معلوم ہے عثمان نے کیا کیا ؟ انہوں نے کہا ہاں معلوم ہے چار رکعت پڑھی ہیں لیکن میں نے تو دو رکعت ہی نماز ادا کی ہے۔عبداللہ بن مسعودؓ نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تو دو رکعت ہی ثابت ہیں مگر میں نے سُنا خلیفہ وقت نے چار پڑھائی ہیں میں نے بھی چار ہی پڑھیں لیکن نماز سے فارغ ہو کر میں نے یہ دعا کی کہ خدایا! میری دو رکعت ہی قبول کیجیئو کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو ہی پڑھا کرتے تھے ^ تو کوئی اکیلی چیز اچھی نہیں ہوتی۔اس کے پیچھے جو باتیں ہوتی ہیں ان کا اگر خیال نہ رکھا جائے تو نقصان ہوتا ہے۔اگر ہم ایک عمارت تعمیر کرنا شروع کریں اور ایک معیار مقرر کر دیں کہ اس درجہ کے کام کرنے والے معمار کام کریں تو ایسے چند ہی مل سکیں گے اور