خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 533
خطابات شوری جلد اوّل صدیوں میں جا کر عمارت تیار ہو گی۔۵۳۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء کامیابی حزب اللہ کو حاصل ہوتی ہے خدا تعالی نے بتایا ہے کیو نسوانا النیسترال ا الْمُسْتَقِيم که صداقت ملے لیکن صراط الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلیم کے ساتھ ہو یعنی ساری جماعت کے ساتھ رہیں کیونکہ کامیابی حزب اللہ کو ہی حاصل ہوتی ہے۔ایک دفعہ صحابہ نے جوش میں آ کر سواریوں کو تیز چھوڑ دیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔رِفقاً بِالْقَوَارِيرِ رِفْقاً بِالْقَوَارِيُرِرِفْقاً بِالْقَوَارِيرِ یعنی عورتوں کا بھی خیال رکھنا۔اس حکم سے آپ نے جہاد کرنے والوں میں بھی اضافہ فرما دیا ور نہ کم طاقت کے لوگ پیچھے رہ جاتے اور تھوڑے کام کر سکتے۔اس بات کو ہر موقع پر مدنظر رکھنا اور ایسا طریق اختیار کرنا چاہئے کہ اعلیٰ درجہ حاصل کرنے والے بھی اسے اختیار کر سکیں لیکن کمزوروں کے لئے بھی موقع ہو۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وصیت کے متعلق یہ رکھا ہے کہ ۱٫۳ حصہ تک کی جاسکتی ہے لیکن ۱۰ را حصہ تک حد مقرر فرمائی ہے۔اس حد تک جو دیتا ہے وہ اپنا فرض ادا کرتا ہے۔پس اس آیت میں جس بات کی ہدایت کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ یہ بات مدنظر رکھو کہ جماعت کے ساتھ چلنا ہے،صرف خود ہی نہیں آگے نکلنا۔پانچواں گر یہ بتایا کہ جب صحیح نتیجہ پر پہنچو تو پھر اس ٹھوکر سے بچو کہ غرور سے بچو تمہارے دل میں غرور پیدا ہو اور تم سمجھنے لگو کہ ہم نے یہ کام کیا ہے۔فرمایا تم کام کرنے والے نہیں۔جو اِيّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کہتا ہے اُسے یہ کہتے ہوئے شرم نہیں آتی کہ میں نے یہ کیا۔اُدھر تو وہ خدا سے مانگتا ہے اور ادھر کہتا ہے میں نے کیا۔اُسے تو جو کچھ ملا خدا نے دیا۔تو فرمایا اس کے بعد دو حالتیں مدنظر رکھنی چاہئیں۔ایک تو یہ کہ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلیہم نہ بننا چاہئے۔یعنی کام کرنے کے بعد یہ خیال نہ پیدا ہو کہ ہم نے کیا ہے بلکہ یہ کہ خدا نے ہی کیا ہے۔دوسرے مارتین نہ بننا۔جو کچھ کرو اسے اپنا مقصود نہ بنانا بلکہ اصل مقصد خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا قرار دینا۔غرض إيَّاكَ نَعْبُدُ سے چلتے چلتے انسان فتح تک پہنچتا ہے اور اس میں خدا تعالیٰ کو ہی فتح دینے والا سمجھتا ہے مگر اس پر یہ نہیں سمجھتا کہ سب کام ختم ہو گیا بلکہ پھر خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا