خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 527 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 527

خطابات شوری جلد اوّل ۵۲۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء خدا تعالیٰ کی صفات کے متعلق مسلمانوں کی غلطی اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات قرآن کریم میں تفصیل سے بیان کیں مگر مسلمانوں نے کچھ کا کچھ بنا لیا ، حتی کہ ایک عقلمند ان پر ہنس پڑے گا اور ایک در دمندان کوسُن کر رو پڑے گا۔بھلا کون ایسے خدا کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوسکتا ہے جس کے متعلق کہا جائے کہ چند انسانوں کے سوا باقی سب کو از لی لعنت میں گرفتار کر دے گا۔کیا خدا تعالیٰ پر ایمان لانے والا ایک منٹ کے لئے بھی خیال کر سکتا ہے کہ وہ رحیم و کریم ہستی اپنے بندوں کو ضلالت میں ڈال کر چھوڑ دے گی ؟ لیکن آجکل مسلمان یہی کہتے ہیں کہ سوائے مسلمان کہلانے والوں کے باقی سب کو خدا تعالیٰ ہمیشہ کے لئے جہنم میں ڈال دے گا۔اسی طرح کیا کوئی سمجھدار انسان یہ تسلیم کر سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے صرف بنی اسرائیل میں نبی بھیجے اور باقی ساری دُنیا کو اس نے چھوڑ دیا کہ تباہ ہو، وہ ممالک جنہوں نے اخلاقی علوم اور فلسفہ کو ترقی دینے کے لئے صدیاں صرف کر دیں ، وہ ممالک جو خدا تعالیٰ سے ملنے کے لئے سینکڑوں سال کوشش کرتے رہے، وہ روحیں جو روحانی پانی کے لئے تڑپتی رہیں، خدا تعالیٰ نے ان سب کو نظر انداز کر دیا اور جب ہدایت بھیجی تو صرف بنی اسرائیل کے لئے بھیجی؟ اس بات کو کون مان سکتا ہے۔ایک شخص قرآن کریم میں الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ " پڑھتا ہے اور پوچھتا ہے بتاؤ خدا نے سب کی کیا ربوبیت کی؟ تو اُسے کہتے ہیں دیکھو خدا سب کے لئے بارش برساتا ہے، سب کے لئے سورج چڑھاتا ہے، سب کو ہوا پہنچاتا ہے مگر جب روحانیت کے متعلق پوچھتے ہیں تو کہتے ہیں یہ صرف بنی اسرائیل کے لئے مخصوص تھی۔یہ سب باتیں بالوضاحت بیان کر دی گئی تھیں آخر کس بات کی ضرورت تھی۔قرآن کریم کی آیت ہے۔ان مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيمَا نَذیر یہ کھلی آیت ہے، ایسی کھلی کہ جس کے دو معنی نہیں ہو سکتے مگر باوجود اس کے مسلمانوں نے اس بات کو چھوڑ دیا۔پس جب نصوص کی موجودگی میں ٹھوکر لگ گئی اور جب تفصیلات کے باوجود مسلمان غلطی میں مبتلا ہو گئے تو جہاں صرف اشارات ہوں وہاں ٹھوکر لگنے کا اور بھی زیادہ خطرہ ہے۔مجلس مشاورت میں پیش ہونے والے امور ہم اس مجلس میں جن امور پر غور کرنے کے لئے بیٹھتے ہیں وہ عموماً