خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 526
خطابات شوری جلد اوّل ۵۲۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء اور وہ دُنیا میں کامیاب ہو کر رہتے ہیں۔چنانچہ فرمایا۔كَتَبَ اللهُ لا غَلِبَنَّ أَنَا وَ رُسُلِي یا کہ میں اور میرے بھیجے ہوئے یعنی وہ جو میرے بتائے ہوئے طریق کے مطابق کام کرتے ہیں۔ہمیشہ غالب رہتے ہیں یا یہ فرمایا کہ والّذينَ آمَنُوا فَإِنَّ حِزْبَ اللّوهُمُ الغلبون ہے جو حزب اللہ ہوں گے وہ کامیاب ہوں گے یعنی وہ اللہ کی فوج میں داخل ہوں گے اور فوج اپنی منشاء کے مطابق نہیں لڑا کرتی بلکہ اعلیٰ افسر کے حکم کے ماتحت لڑتی ہے۔اس لئے حزب اللہ سے مراد یہی ہے کہ وہ جو خدا تعالیٰ کے منشاء کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ غالب رہتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے خدا تعالی کا وعدہ حضرت مسیح موعود علیہ اصلوة والسلام کے ساتھ خدا تعالیٰ کا جو وعدہ ہے وہ بھی یہی ہے۔خدا تعالیٰ نے آسمان پر ایک فیصلہ کیا اور کہا کہ میں اسے دُنیا میں جاری کروں گا۔اب جو اُسے جاری کرنے کے لئے کھڑا ہو گا وہ غالب ہوگا اور جو اس کے مقابلہ پر کھڑا ہو گا وہ مقہور اور مغضوب ہوگا۔کامیاب وہی ہو گا جو خدا تعالیٰ کے منشاء کے مطابق کام کرے گا نہ کہ وہ جو اپنی سکیم کے ماتحت کام کرے گا۔ہماری حالت اب غور کرو یہ بات ہمارے لئے اس کام کو کتنا نازک بنا دیتی ہے۔ایک طرف ہم نے اُن کو جو ہمارے عزیز واقارب ہیں ہمارے لئے خون بہانے کو تیار ہیں چھوڑا، اُن سے الگ ہوئے۔دوسری طرف دُنیا نے ہمیں چھوڑ دیا۔ایسی حالت میں اگر ہمارے مقاصد خدا تعالیٰ کے مقاصد کے مخالف ہوں تو ہماری مثال ( خدا تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھے ) خَسِرَ الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ کی ہوگی۔اگر دُنیا کو ہم نے خود چھوڑ دیا اور پھر خدا تعالیٰ کے وعدہ اور منشاء کے مطابق کام نہ کر کے خدا تعالیٰ کو ناراض کر دیا اور اُس نے ہمیں چھوڑ دیا تو غور کرو اس حالت میں ہمارے لئے کوئی بھی جگہ رہ جاتی ہے؟ پس ہمارا معاملہ بڑا ہی نازک ہے۔یہ نہیں کہنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کا منشاء ہمیں معلوم ہے کیونکہ جہاں تفصیلات ہوں وہاں بھی دقتیں ہوتی ہیں۔قرآن کریم موجود ہے مگر مسلمانوں نے اس کے معانی کو غلط سمجھا اور خدا کے غضب کے مورد ہو گئے۔جب تفصیلات کے ہوتے ہوئے بھی انسان کو ٹھوکر لگ سکتی ہے تو جو بات اشاروں میں بیان ہو اُس کے متعلق کتنا خطرہ ہے۔