خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 525
خطابات شوری جلد اوّل ۵۲۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ افتتاحی تقریر مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء ( منعقده ۱۴ تا ۱۶ را پریل ۱۹۳۳ء) پہلا دن مجلس مشاورت منعقده ۱۴ تا ۱۶۔اپریل ۱۹۳۳ء کے آغاز میں حضور نے دُعا کروانے کے بعد تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کی اور پھر مجلس مشاورت کا افتتاح کرتے ہوئے فرمایا: - ” ہم آج یہاں ایک ایسے کام کے لئے جمع ہوئے ہیں جس کے ہمارے کام کی اہمیت متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ پہلے آسمان پر طے کیا گیا، پھر زمین پر نازل کیا گیا۔گویا جو کام آج ہم نے کرنا ہے وہ اس رنگ میں ہونا چاہئے جس رنگ میں کہ آسمان پر اُسے طے کیا گیا تھا۔جس چیز کو خدا تعالیٰ نے دُنیا میں پھیلانے کا وعدہ کیا ہے اور جس کام کو کامیاب کرنے کا اس کی طرف سے وعدہ ہے وہ وہ کام نہیں جو زید یا بکر کرتا ہے یا زید یا بکر کرے گا بلکہ وہ ہے جسے خدا نے آسمان پر طے کیا۔پس ہمارا یہ خیال کرنا حماقت ہو گی کہ جو کام ہم کریں گے وہ دُنیا میں پھیل جائے گا یا جس کام کو ہم کریں گے اُس کا مقابلہ دنیا نہ کر سکے گی۔ایسا نہ کوئی وعدہ قرآن میں ہے نہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات میں۔ایک ہی وعدہ ملتا ہے قرآن میں بھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات میں بھی۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ کا وعدہ قرآن کریم میں تو اللہ تعالی نے عمومی طور پر وعدہ کیا ہے کہ جو اللہ کے دین کی تائید کرنے کے لئے اور اس کی منشاء کو پورا کرنے کے لئے کھڑے ہوں، اللہ انہیں ضرور کامیاب کرتا ہے