خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 507
خطابات شوری جلد اوّل ۵۰۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء ہوں۔بچپن میں ہی مجھے شکار کھیلنے کا شوق تھا۔میں شکار مار کر خود نہ کھا تا تھا بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو لا کر دے دیتا تھا۔آپ چونکہ دماغی کام کرتے تھے اس لئے شکار کا گوشت آپ کے لئے مفید ہوتا اور آپ اسے پسند بھی فرماتے تھے۔اس وقت مجھے اتنی مشق تھی کہ میں پانچ چھ چھڑے لے جاتا اور ہوائی بندوق سے چار پانچ پرندے مار لاتا۔حالانکہ وہ بندوق بھی معمولی قسم کی ہوائی بندوق ہوتی تھی۔میری یہ رائے ہے کہ نشانہ معمولی قسم کے اوزار سے بھی سیکھا جا سکتا ہے۔میرا خیال ہے کہ کسی قسم کی نشانہ بازی کا رواج ہو جائے تو جماعت میں ایسی مشاقی پیدا ہو جائے گی کہ اگر کبھی بندوق چلانے کا موقع ملے تو اچھا نشانہ لگا سکیں گے۔اس وجہ سے میری تجویز یہ ہے کہ ایسی کہیں بنائی جائیں کہ ان میں ہر قسم کی نشانہ بازی کی مشق کرائی جائے۔حتی کہ جہاں کے لوگ ہوائی بندوق بھی نہ خرید سکیں وہ بھی نشانہ بازی کر سکیں اور نہیں تو تیر ہی چلانے کی مشق کریں۔اب تیر چلانے کا رواج نہیں رہا پہلے اِس قسم کی لوگوں کو بہت مشق ہوتی تھی حتی کہ اس کے ساتھ جانور مارلیا کرتے تھے۔ایک فرانسیسی سیاح بر نیر لکھتا ہے۔ایک علاقہ میں سپاہیوں نے ایک بُڑھیا کا گھر لوٹ لیا اور اسے پکڑ کر لے چلے۔بڑھیا نے کہا جب میری بیٹی آئے گی تو تم لوگوں کو نقصان پہنچائے گی۔بہتر ہے کہ مجھے چھوڑ دو مگر اُنہوں نے نہ مانا۔آخر دیکھا کہ دور سے گھوڑے پر سوار ایک عورت آ رہی ہے۔اس نے پاس آ کر سپاہیوں سے کہا میری ماں کو چھوڑ دو مگر اُنہوں نے نہ چھوڑا۔اس نے تیر مار کر ان میں سے ایک کو گرا دیا۔اسی طرح باری باری اس نے پانچ چھ کو مار دیا اور باقی بھاگ گئے۔گو میں سمجھتا ہوں تیر کا نشانہ اور طرح کا ہوتا ہے اور بندوق کا اور طرح کا لیکن ہاتھ اور آنکھ کو نشانہ لگانے میں جو پریکٹس ہو جاتی ہے۔اس سے ہر موقع پر نشانہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے۔میرا خیال ہے کہ اگر اس قسم کی کلمیں بنائیں تو ان کی پابندی بھی کرا سکتے ہیں لیکن صرف رائفل کلب بنانے سے ہر جگہ کے احمدیوں سے اس کی پابندی نہیں کرائی جاسکتی۔ہاں اگر ہم انہیں یہ کہیں کہ چاہے تیر چلاؤ، چاہے غلیل چلا ؤ، چاہے ہوائی بندوق چلاؤ، چاہے رائفل چلا ؤ مگر نشانہ لگانا سیکھو تو اس کی پابندی ہر جماعت کر سکتی ہے کیونکہ کوئی جماعت