خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 506
خطابات شوری جلد اوّل مجلس مشاورت ۱۹۳۲ء شوٹنگ کلب کے متعلق جو تجویز پیش کی گئی ہے میں اسے کھول کر بیان کر دیتا ہوں۔نئے ایکٹ اسلحہ کے ماتحت جو ۱۹۲۴ء سے جاری کیا گیا ہے۔ایسے کلب کھولے جا سکتے ہیں کہ ان کے جتنے نمبر ہوں وہ ایک مقررہ احاطہ کے اندر رائفل چلانے کی پریکٹس کر سکتے ہیں۔اگر ایسے کلب کے لئے لائسنس لے لیا جائے تو کلب کے ممبر پریکٹس کر سکتے ہیں اور شوٹنگ سکھائی جا سکتی ہے۔بڑے کارتوسوں کی قیمت زیادہ ہوتی ہے لیکن منی ایچر (MINIATURE) کارتوس کم قیمت پر مل سکتے ہیں اور ان سے مشق کی جاسکتی ہے اور بڑے کارتوس چلانے کے وقت کوئی فرق نہیں پڑ سکتا یعنی یہ نہیں کہ چھوٹے کارتوس سے مشق کرنے کی وجہ سے بڑے کارتوس نہ چلائے جاسکیں۔ہمارا اندازہ یہ ہے کہ دو روپے کے کارتوس سے ایک آدمی نشا نہ سیکھ سکتا ہے۔“ اس وضاحت کے بعد حضور نے فرمایا: - اس وقت جو تجویز پیش ہے۔وہ یہ ہے کہ ممکن ہو تو پہلے قادیان میں اور پھر دوسری جگہوں میں رائفل کلب جاری کئے جائیں۔اس کا مطلب بھی آپ لوگوں کے سامنے بیان کر دیا گیا ہے کہ نئے قانون اسلحہ میں یہ گنجائش رکھی گئی ہے کہ لوگوں کو نشانہ بازی سیکھنے کے لئے اجازت دی جائے اور ایک لائسنس سے سارے ممبر رائفل چلانے کی مشق کر سکیں۔گو پہلے بھی شاید ہی کوئی بندوق ایسی ہوتی ہو جو دوسرے نہ چلاتے ہوں مگر قانونی طور پر یہ جرم ہے کہ اپنی بندوق دوسرے کو دی جائے لیکن اس لائسنس سے سارے ممبر نشانہ سیکھ سکتے ہیں۔اس کے ماتحت ہو سکتا ہے کہ رسوخ والی جماعتیں ایسے کلب بنا ئیں اور لائسنس لے کر اس کے ممبر نشانہ سیکھیں مگر فی الحال اس کا اثر محض قادیان تک ہوگا۔یہاں پہلے بھی لائسنس کافی ہیں اور اُمید کی جاتی ہے کہ جب الگ الگ لوگوں کے پاس لائسنس ہیں تو اکٹھے نشانہ بازی کے لئے کیوں نہ لائسنس دیا جائے گا۔بیرونجات میں اس کے لئے ابھی مشکلات ہیں۔گاؤں میں اس قسم کے کلب بننے میں باوجود قانون کی موجودگی کے اور باوجودلوگوں کے شوق کے حکومت روک ڈالے گی۔اس لئے فی الحال اس تجویز کا اثر قادیان یا ایک دو جگہ باہر ہو سکے گا۔اس وجہ سے یہ تجویز ساری جماعت کے لئے کافی نہیں ہے۔مدت سے میری یہ رائے ہے اور میں ابتدائی ایام سے بندوق چلانے کا شائق رہا