خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 29

خطابات شوری جلد اوّل ۲۹ مجلس مشاو مشاورت ۱۹۲۲ء (1****) پانچواں تبلیغ کم ہوگئی ہے۔جب تین چار مبلغ رہ گئے تو تبلیغ کیا ہو۔پہلے دس ہزار جماعت تھی اور سارے مبلغ تھے اس لئے تبلیغ خوب ہوتی تھی اب پانچ سات رہ گئے ہیں۔چھٹا یہ کہ اثر کم ہو گیا ہے۔پہلے ہر ایک کو یہ احساس تھا کہ میں کمزور ہوں اس لئے ہر احمدی دعائیں کرتا تھا۔اب کہتا ہے کہ جب کوئی اعتراض کرے گا تو مولوی کو بُلا لونگا۔پہلے دعاؤں کی طرف توجہ تھی اور خدا پر نظر تھی اس لئے تبلیغ کا بڑا اثر ہوتا تھا۔اس لئے ضروری ہے کہ ہر جماعت میں تبلیغی سیکرٹری ہوں، آگے اس کے مددگار ہوں۔مددگار مبلغ نہیں مبلغ تو ہر ایک ہوگا وہ اسسٹنٹ سیکرٹری ہوں گے۔سیکرٹری سب مذاہب کا مطالعہ کریں اور باقی ایک ایک مذہب کا مطالعہ کریں اور اگر زیادہ ہوں تو دو دو نائب مقرر کریں اور ان لوگوں کا ایک یہ فرض ہو کہ حضرت صاحب کی کتابیں پڑھیں اور اپنے اپنے صیغوں کی رپورٹیں بھیجیں اور پھر یہ اسی طرح سب سے کام لیں جس طرح چندہ لینے والا سب سے لیتا ہے اور ہر ایک سے تبلیغی رپورٹ لیں۔مبلغوں کے بلانے کا سلسلہ بند کیا جاوے۔کیا ہوا اگر شکست ہو جائے۔اگر کوئی کمزور ہے تو خود توجہ کرے۔پس ڈرنا چھوڑ دو ڈرنے سے نقصان ہو رہا ہے۔میں نے مبلغوں کے ضلع تقسیم کئے ہیں کہ ان کی نگرانی میں یہ کام کرائے جاویں لیکن آپ لوگ آزاد نہیں۔آپ نے ابھی سے عمل کرنا ہے، مبلغ مشورہ دے گا۔مولوی غلام رسول صاحب را جیکی اور مولوی ابراہیم صاحب بقا پوری اور حافظ روشن علی صاحب کو مقرر کیا ہے۔ان کا کام یہ ہے کہ صیغے مقرر کریں اور مبلغ مقرر کریں۔جہاں احمدی ہوں وہاں احمدیوں کو مقرر کریں اور جہاں احمدی نہیں وہاں خود تبلیغ کریں۔صیغہ تألیف کی یہ مدد ہے کہ یہاں سے جو کتابیں شائع ہوں اُن کو فروخت کریں۔آریوں کی عیسائیوں کی کتابیں لوگ خرید تے ہیں مگر ہماری نہیں لیتے۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہم نے مفت دے کر اُن کی عادت خراب کر دی ہے۔اب کتابیں فروخت کریں۔اوّل عام کتابیں لے لیں جیسے میرے لیکچر اسلام میں اختلاف کا آغاز ،مسئلہ تقدیر پر تقریر ، ملائکہ پر تقریر۔جب ان سے کسی کو فائدہ ہوگا تو پھر اور بھی خرید لے گا اور ہر جماعت کے لوگ قیمتاً فروخت کریں اس طرح صیغہ کی ترقی ہوگی۔غرض ضروری ہے کہ ہر فرد یہ کام کرے اور ایسا زمانہ آجاوے کہ دنیا میں کوئی مثال ہمارے نہ نظر آ وے اور احساس اسقدر ہو کہ کوئی بد معاملہ ہو،